اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوا ہے اور اس میں ووٹر ٹرن آوٹ اطمینان بخش قرار دیا جارہا ہے ۔بعض پولنگ سٹیشنوں کے باہر مخالف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان معمولی نوعیت کے لڑائی جھگڑے ضرور ہوے جن پر فوری طور قابو پایا گیا ۔قارئین کرام خوب جانتے ہیں کہ تقریباً دس برسوں کے بعد یہاں اسمبلی چناﺅ ہورہے ہیں اور لوگوں میں اس بار اسمبلی الیکشن کے حوالے سے کافی جوش و خروش دکھائی دیا ۔اس بات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ سات اضلاع پر محیط 24اسمبلی حلقوں کی ووٹنگ کے لئے جو 3276پولنگ سٹیشن قایم کئے گئے تھے ان میں سے بعض پر صبح سویرے سے ہی ووٹر قطاروں میں کھڑے ووٹ ڈالنے کا انتظار کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔سات بجے صبح جب پولنگ شروع ہوئی تو اچھی خاصی تعداد میں ووٹر پولنگ بوتھوں کے باہر قطاروں میں نظر آئے جن میں خواتین ووٹر بھی شامل تھیں ۔جوں جوں دن کی شروعات ہوئیں قطارئیں لمبی ہوتی گئیں جس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ لوگوں کو ووٹوں کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت کا بھی بھر پور احساس ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے سب معمول کے کام کاج چھوڑ کر ووٹ ڈالنے کے لئے نکل پڑے ۔کسی نے کوئی زور زبردستی نہیں کی ،کسی لالچ کے بغیر لوگ گھروں سے نکلے اور اپنی پسند کی پارٹیوں اور امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے ۔اپنے ووٹ کاسٹ کرنے والوں میں جسمانی طور پر معذور افراد کی اچھی خاصی تعداد بھی شامل تھی ۔بعض بیساکھیوں کے سہارے چل کر پولنگ بوتھوں تک آئے ۔بعض کو ان کے گھروالے گاڑیوں وغیرہ یا وہیل چئیرز پرپولنگ بوتھوں تک لے کر آے ۔جبکہ ایک عمر رسیدہ خاتون کو بھی ووٹ ڈالتے ہوئے دیکھا گیا جس کا دعویٰ تھا کہ وہ تقریباً سو برس کی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی اور لیفٹننٹ گورنر نے صبح سویرے ہی لوگوںسے اپیل کی تھی وہ انتخابی عمل میں شامل ہوکر اپنے قیمتی ووٹوں کا استعمال کریں تاکہ جمہوری اداروں کو مضبوط کیا جاسکے چنانچہ ان کی یہ اپیل کارگر ثابت ہوئی اور لوگ جوق در جوق ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ بوتھوں کی طرف جانے لگے ۔صبح 9بجے تک 11.11فی صد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جبکہ 11بجے تک 26.72اور دوپہر ایک بجے تک ووٹ ڈالنے کی شرح 41.17ریکارڈ کی گئی دن کے 3بجے تک ووٹنگ کی شرح 50.65ریکارڈ کی گئی سہ پہر 5بجے تک ووٹنگ کی شرح 58.19فی صد ہوئی جو بذات خود اس مدت تک ایک ریکارڈ ہے ۔بہر حال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ لوگوں کو ووٹ کی اہمیت و افادیت معلوم ہوگئی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر ووٹ کو ضایع ہونے نہیں دینگے ۔جب ووٹنگ کے پہلے مرحلے کے اختتام پر ووٹوں کی شرح ۔۔۔۔۔۔اتنی رہی تو اگلے دو مراحل میں امید کی جارہی ہے کہ ووٹنگ کی شرح بڑھ جاے گی ۔الیکشن کمشن نے ووٹنگ کی شرحوں میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اطمینان بخش ووٹنگ ہوئی ہے ۔اب 8اکتوبر کو نتایج سامنے آئینگے تو اسی وقت سب کچھ صاف ہوجاے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے ۔کون جیتا اور کون ہارا اس کا کچاچھٹا 8اکتوبر کو سامنے آے گا ۔اس بار جو بھاری تعداد میں آزاد امیدوار انتخابی اکھاڑے میں کود پڑے ان سے یہ بات طے ہے کہ ووٹ بٹ جاینگے ۔پھر کس کی قسمت میں ہار ہوگی اور کس کے سر پر فتح کا تاج سجے گا یہ وقت ہی بتائے گا۔












