جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آفات سماوی پر کسی کا بس نہیں ۔اس کو روکنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی ہے ۔البتہ اس سے بچاﺅ کے طور طریقے اپنانے سے کم سے کم نقصان کی توقع کی جاسکتی ہے ۔بھونچال ہو ،طوفانی بادو باراں ہو یا اسی نوعیت کی کوئی انہونی ہو ان کو روکنا ناممکن ہے لیکن اتنا ضرور کیا جاسکتاہے کہ قبل از وقت ہی ان سے بچاﺅ کی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی ہے کہ زلزلہ کب آے گا یا اس کی شدت کتنی ہوگی؟ ۔جب ایسی صورتحال ہے تو حکومت کو چاہئے کہ اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والوں کے لئے ایک تو محفوظ پناہ گاہوں کا بندوبست کرے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ ماہرین کو اعتماد میں لے کر لوگوں کو بتایا جاے کہ زلزلے کے وقت کیا کیا کرنا چاہئے تاکہ کم سے کم جانی نقصان ہوسکے ۔سال 2005اکتوبر کا جو زلزلہ تھا اور جس میں آر پار سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے اور کروڑوں کا نقصان ہوا کے بارے میں ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ کسی کے یہ وہم گمان میں نہیں تھا کہ اس شدت کا زلزلہ آے گا جو بھاری جانی اور مالی تباہی کا باعث بن جاے گا۔بہر حال منگل وار 21اگست صبح سویرے یہاں یکے بعد دیگرے دو زلزلے کے جھٹکے آے جن سے لوگوں پر لرزہ طاری ہوا ۔چونکہ اس زلزلے کا مرکز بارہ مولہ تھا جہاں متعدد عمارتوں میں دراڑیں پڑگئیں اور وہاں وادی کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں لوگوں پر کچھ زیادہ ہی خوف طاری ہوگیا ۔زلزلے سے ایک خاتون کی جان چلی گئی اور کئی زخمی ہوگئے جن میں وہ شخص بھی شامل بتایا گیا جس نے اپنے بچاﺅ کے لئے مکان کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی اور ہاتھ پاﺅں تڑوا بیٹھا ۔ان دونوں زلزلوں کی شدت ریکٹر سکیل پر 4.8,4.9ریکارڈ کی گئی ۔کہا جارہا ہے کہ اس کی زیر زمین گہرائی دس کلو میٹر تھی ۔اس زلزلے سے اگرچہ اتنا نقصان نہیں ہوالیکن لوگ بڑی حد تک سہم گئے ۔کیونکہ وادی کشمیر کے علاوہ خطہ چناب سیسمک زون 5کے تحت آتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کسی بھی وقت ایسا زلزلہ آسکتاہے جو انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتاہے ۔یہ زلزلہ کب اور کس وقت آے گا اس کے بارے میں ماہرین خاموش ہیں کیونکہ ابھی تک سائینس کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں کرسکی ہے جو زلزلے آنے کے بارے میں پیشگی اطلاع دے سکے ۔جس طرح طوفانی بادو باراں کے بارے میں قبل از وقت محکمہ موسمیات لوگوں کو باخبر کرتا ہے اس کے برعکس زلزلوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی جاسکتی ہے ۔اب صرف یہ کرنا ہوگا کہ حکومت کو کوئی ایسی جگہ مقرر کرنی چاہئے جہاں امکانی آفات سماوی کی صورت میں لوگوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی متواتر طور پر لوگوں کو سوشل ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یہ بتایا جاے کہ زلزلے آنے کے وقت انہیں کیا کرنا ہے جس سے وہ اپنی جانیں بچاسکتے ہیں ۔جاپان دنیا بھر میں ایک ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں وہاں حکومت کی طرف سے ایسی عارضی پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں جہاں متاثرین کو ہر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اسلئے یہاں بھی اسی طرح کے انتظامات کئے جانے چاہئے تاکہ زلزلے کے وقت لوگ اپنی جانیں بچا کر ان عارضی رہایش گاہوں میں قیام کرسکیں ۔












