نئی دلی/تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا کہ افریقہ کچھ شعبوں جیسے الیکٹرک وہیکل (ای وی) کے لیے اہم معدنیات کی ہندوستان کی ضرورت کو پورا کرسکتا ہے۔ جناب گوئل نے یہ بات آج نئی دہلی میں 19ویں سی آئی آئی انڈیا افریقہ بزنس کنکلیو میں تجارت کے وزراء کے ساتھ خصوصی مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جناب گوئل نے کانکنی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا، کیونکہ افریقہ معدنیات سے مالا مال ہے۔ انہوں نے مشترکہ شراکت داری کے ذریعے ہندوستان اور افریقہ دونوں میں پائیدار کانکنی کے طور طریقوں اور معدنیات کی قدر میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا۔ جناب گوئل نے اگلے سات سالوں میں ہندوستان اور افریقہ کے درمیان تجارت کو دوگنا کرنے کا ایک اہم ہدف مقرر کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ افریقی ممالک اور ہندوستان کے درمیان تجارت کے وسیع امکانات ہیں۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ 33 افریقی ممالک ہندوستان کی ڈیوٹی فری ٹیرف ترجیح (ڈی ایف ٹی پی) اسکیم برائے کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سیز) میں حصہ نہیں لیتے ہیں اور انہوں نے ان سے اس کا فائدہ اٹھانے کی اپیل کی ہے۔وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل اور قابل تجدید توانائی میں ہندوستان کی قوت افریقہ کی ترقی کی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانکنی، سیاحت، زرعی مصنوعات اور تیار کردہ اشیاء میں افریقہ کی قوت ہندوستان کی ترقی کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساوی تجارت پر توجہ دی جانی چاہیے۔جناب گوئل نے ہندوستان اور افریقہ کے درمیان ٹیکنالوجی، خاص طور پر آئی ٹی کے شعبے میں شراکت داری کے امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے افریقہ میں ٹیکنالوجی کی وسیع رسائی، مالی شمولیت، سماجی شعبے کی ترقی، شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن، اور روز گار کی تشکیل کو بڑھانے کے لیے ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے استعمال پر زور دیا۔وزیر تجارت نے تفریحی شعبے کو ایک ایسے شعبے کے طور پر اجاگر کیا، جس میں باہمی تعاون کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے کِلی پال کی مثال دی، جنہوں نے بالی ووڈ موسیقی سے منسلک ہو کر عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ جناب پیوش گوئل نے کھیلوں اور ثقافتی تبادلے میں تعاون کے امکانات پر بھی زور دیا۔












