کنگن کے ایک علاقے ژیر ون میں گذشتہ شب بادل پھٹنے سے تباہی مچ گئی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے کچھ ڈراونی سی آوازیں آئیں اور اس کے ساتھ ہی بادل پھٹنے لگے ۔اسی اثنا میں شور بلند ہوا اور لوگوں کو یہ جب یہ محسوس ہونے لگا کہ بھاری مٹی کے تودے گرنے لگے تو وہ اپنی جانیں بچانے کے لئے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے ۔بھاری مٹی کے تودے اور پانی کے ریلے اپنے ساتھ منوں مٹی بہانے لگے جس سے کئی مکانوں ،گاﺅخانوں اور دوسری املاک کو نقصان پہنچا اور کئی گاڑیاں بھی دب گئیں ۔لیکن اس بڑی قدرتی آفت میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔سرینگرسونہ مرگ شاہراہ پر رکاوٹیں پیدا ہوگئیں کیونکہ اس پر بھاری مٹی کے تودے ،درخت اور دوسرا ملبہ جمع ہوگیا جس سے آمدورفت معطل ہوکر رہ گئی ۔اس واقعے سے کئی روز قبل ہی کیرالہ کے وائینارڈ میں اسی طرح کی قدرتی آفت انتہائی خونیں ثابت ہوئی۔وہاں بھی پہلے گرج چمک کے ساتھ چھینٹیں پڑنے لگی تھیں ۔کہا جارہا ہے کہ لوگوں نے اس کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیا اس کے بعد بارشوں میں تیزی آنے لگی پھر یکا یک بادل پھٹنے لگے اور اس کے بعد بھاری مٹی کے تودے گرنے سے گاﺅں کے گاﺅں اور بستیوں کی بستیاں ملبے کے نیچے آگئیں ۔درجنوں مکان اور دوسرے ڈھانچے دب گئے ۔اور ان میں موجود لوگ پھنس کر رہ گئے ۔بہر حال جب بارشوں کا سلسلہ تھم گیا تو بچاﺅ کاروائیوں میں سرعت لائی گئی اور آخری اطلاعات ملنے تک 357افراد کی موت واقعہ ہوچکی تھی ۔206افراد اب بھی لاپتہ بتائے گئے جبکہ 309افراد کا ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اس جگہ جہاں یہ واقعہ رونما ہوا سے کئی کلو میٹر دور ایک ندی سے انسانی اعضا برآمد ہونے لگے ہیں جس سے یہی اندازہ لگایا جارہا ہے کہ بھاری تودوں کے نیچے دبنے والوں کے یہ اعضا ہوسکتے ہیں ۔بہر حال وہان بچاﺅ کاروائیاں برابر جاری ہیں ۔لیکن دوسری طرف ژیر ون کے واقعے نے ماہرین ارضیات کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ژیر ون میں بادل پھٹنے کا واقعہ رونما ہوا اس طرح کا واقعہ کسی اور جگہ بھی رونما ہوسکتا ہے اسلئے سرکاری ایجنسیوں کو الرٹ رہنا چاہئے اور لوگوں کے جان و مال کو بچانے کے لئے ہر وہ اقدامات اٹھائے جانے چاہئے جو حالات کے متقاضی ہوں ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرچہ آفات سماوی کو روکا نہیں جاسکتا ہے لیکن لوگوں کی جانوں کو بچانے کے لئے اقدامات تو اٹھائے جاسکتے ہیں ۔جس طرح وائینارڈ یا ژیر ون میں بادل پھٹنے سے تباہی مچ گئی ہے اسی طرح کا واقعہ کسی اور جگہ بھی رونما ہوسکتاہے اسلئے حکومت پر یہ لازم ہے کہ ماہرین ارضیات کی مدد و اعانت سے ایک ایسا میکنزم تلاش کرے جس سے آفات سماوی سے قبل ہی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکے ۔حکومت کو اس نوعیت کی قدرتی آفت آنے سے پہلے ہی لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے ۔اس کے لئے عارضی خیمہ بستی قایم کی جاسکتی ہے جہاں ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہونگی۔کیونکہ جب کوئی واردات رونما ہوتی ہے تو اس وقت سرکار کو پریشانی ہوتی ہے اور متاثرین کی باز آباد کاری کا مسلہ زبردست مصائیب کا باعث بن جاتا ہے اس لئے اگر پہلے سے ہی انتظامات کئے جاینگے تو مصیبت زدہ گاں کو سرکار کی طرف سے پہلے سے تیارشدہ خیمہ بستی میں منتقل کیا جاسکتاہے ۔پھر ان کو سکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں رکھنے کی ضرورت نہیں پڑسکتی ہے ۔










