شہر سرینگر کے ہسپتالوں میں ان ڈور اور آوٹ ڈور مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کے بارے میں ڈپٹی کمشنر سرینگر نے موقعے پر جاکر جائیزہ لیا ۔انہوں نے ہسپتالوں میں دستیاب ادویات ،تشخیصی اور دیگر سہولیات کے بارے میں متعلقہ ہسپتالوں کے سٹاف سے دریافت کیا ۔انہوں نے اتنا ہی نہیں کیا بلکہ مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والے تیمار داروں سے بھی اس بارے میں جانکاری حاصل کرلی ۔انہوں نے مریضوں اور تیمار داروں سے دوران بات چیت یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ سرکاری صحت اداروں میں بھر پور سہولیات دی جارہی ہیں یا نہیں ۔بعض مریضو ں نے افسر موصوف کو ان مسایل و مشکلات سے آگاہ کیا جن کا ان اداروں میں مریضوں اور تیمار داروں کو سامنا کرنا پڑتا ہے ۔البتہ ایک بات بالکل صحیح ہے کہ غوثیہ ہسپتال میں جگہ کی بہت زیادہ تنگی ہے اور اس ہسپتال پر روز بروز مریضوں کا رش بڑھ جاتا ہے اسلئے اس تنگی کو کیسے دور کیا جاے گا اس کی طرف ضلع انتظامیہ جس کے سربراہ ڈپٹی کمشنر ہیں کو غور کرنا چاہئے ۔ڈپٹی کمشنر نے صرف اتنا ہی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آیا مریضوں کو سہولیات دی جارہی ہیں یا نہیں بلکہ انہوں نے ان ہسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں دریافت کیا اور ان ہسپتالوں کے باہر پارکنگ سہولیات کے علاوہ ہاوسنگ ،ویٹنگ ہال وغیرہ کے بارے میں بھی موقعے پر ہی ہدایات دیں ۔انہوں نے رعناواری ہسپتال میں پارکنگ کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کے لئے تیس لاکھ روپے منظور کئے ۔اسی طرح غوثیہ ہسپتال کے لئے ویسٹ منیجمنٹ کے لئے جگہ یعنی شیڈ فراہم کرنے کے لئے بیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔اس کے ساتھ ہی ملحقہ پارک کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ہدایت دی ہے ۔لیکن ا س موقعے پر موجود لوگوں نے ان ہسپتالوں کی کارکردگی یعنی عملے کی کارکردگی کو اگرچہ سراہا لیکن ایک ایسا مطالبہ قابل غور قرار دیا گیا جس کے مطابق لوگ عرصہ دراز سے غوثیہ ہسپتال میں جگہ کی تنگی کو دور کرنے کے لئے کہتے آئے ہیں ۔ایک دو برس قبل انتظامیہ کی طرف سے غوثیہ ہسپتال کو باغ دلاور خان کے قریب ایک خطہ اراضی پر منتقل کرنے کا اشارہ بھی دیا گیا تھا لیکن اب تک اس بارے میں کچھ نہیں کیا جاسکاہے ۔اس ہسپتال کا سب سے بڑا مسلہ پارکنگ کی سہولیات نہ ہونا ہے ۔ہسپتال کا عملہ اور دیگر لوگ اس سڑک پر ہسپتال کے سامنے گاڑیاں پارک کرتے ہیں جو سڑک انتہائی مصروف ترین ہے ۔بہر حال حکومت کو اس سارے نکات پر غور کرنا چاہئے ۔ڈپٹی کمشنر نے شہر سرینگر کے ہسپتالوں اور خاص طور پر چھوٹے طبی مراکز کو ایسی میشنری فراہم کرنے کا اعلان کیا جو تشخیصی نوعیت کے کیسز نمٹانے کے لئے کام آسکے ۔انہوں نے ان مراکز کے دورے کے دوران بتایا کہ ضلعی انتظامیہ ہر شعبے بالخصوص صحت کے شعبے کی مجموعی بہتری کے لئے پر عزم ہے ۔انہوں نے ہسپتالوں کی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ہسپتالوں کے اندر اور گرد ونواح میں حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر مستقل انتظامات کریں تاکہ مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے تیمار داروں اور ہسپتال انتظامیہ کو اس حوالے سے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔اس بارے میں لوگوں پربھی بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں کہ وہ طبی اداروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ہسپتالوں کی انتظامیہ کے ساتھ ہمیشہ تعاون کریں۔










