مرکزی بجٹ میں جموں کشمیر کیلئے 42,277.74کروڑ مختص رکھے گئے ہیں ۔اس میں 1424میگاواٹ صلاحیت والے تین پاور پروجیکٹوں کے لئے 777.67کروڑ منظور کی گئی جبکہ جموں کشمیر پولیس کے لئے 9,789.42کروڑ روپے مختص رکھے گئے ۔اس بجٹ کی اہم بات یہ ہے اور جیسا کہ بجٹ کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایگریکلچر اور صحت شعبوں کے لئے بہت کچھ کیا گیا ہے ۔جہاں تک جموں کشمیر کا تعلق ہے تو یہاں سرینگر اور جموں میں کینسر انسٹی ٹیوٹوں کے بارے میں کہا گیا ان کو اس سال مکمل طور پر فعال کیا جاے گا۔یعنی یہ دونوں طبی ادارے اس سال اپنا کام کاج کرنا شروع کرینگے ۔یہ سب سے بڑی اچیومنٹ قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ یہاں اس نازک اور موذی بیماری میں مبتلا لوگوں کو علاج معالجے کے لئے وادی سے باہر جانا پڑتا ہے جب یہاں باضابطہ اور علیحدہ طور پر کینسر انسٹی ٹیوٹ قایم ہوگا تو اس موذی مرض میں مبتلا لوگوں کو باہر جانے کی نوبت نہیں آئے گی اس سے بڑھ کر اور کیا راحت ہوسکتی ہے جو بجٹ کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو حاصل ہونے والی ہے ۔صرف اتنا ہی نہیں DNBسیٹوں کو 400تک بڑھانے کا اعلان کیا گیا اور 1.35کروڑ آبادی کیلئے ABHAکے IDsبنانے کا بھی اعلان غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے خوشخبری ہوسکتی ہے کیونکہ ان سے مفت علاج کی سہولیات مل سکتی ہیں یہ بھی ایک فایدہ مند قدم ہوسکتاہے ۔اس کے ساتھ ہی 30برس سے زیادہ کی عمر والے لوگوں کی سو فیصد بلڈ پریشر اور ذیا بطیس کی سکریننگ۔ہندوارہ میں نئے نرسنگ کالج کا قیام اور تمام اضلاع کو ٹی بی سے پاک کرنے کا مشن ۔غرض صحت کے حوالے سے یہ ایسے اقدامات ہیں جن سے عام لوگوں کو فایدہ مل سکتاہے ۔اتنا ہی نہیں مرکزی بجٹ میں بھی صحت کا خاص خیال رکھا گیا ۔کینسر کے علاج کے لئے تین ادویات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی وغیرہ وغیرہ ۔بجٹ میں 624میگاواٹ کیرو ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لئے ایکویٹی شراکت کیلئے گرانٹس کے بطور جموں کشمیر کو 130کروڑ مختص رکھے گئے ۔جبکہ 800میگا واٹ ریٹل ایچ ای پی کے لئے ایکویٹی کے لئے 476.44کروڑ کی رقم مختص رکھی گئی۔بجٹ دستاویز میں کہا گیا کہ مرکز نے جموں کشمیر کو 540میگاواٹ KWRایچ ای پی کیلئے ایکویٹی شراکت کیلئے گرانٹ کے طور پر 171.23کروڑ مختص کئے ہیں ۔غرض جموں کشمیر میں پاور کی حالت میں سدھار لانے کے لئے بھاری رقم مخصوص رکھی گئی ہے بنیادی تعلیم کے لئے بھی بجٹ میں خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ۔یہاں مزید 2.176نئے کنڈر گارٹن قایم کئے جائینگے ۔ہزاروں کی تعداد میں سکولوں کو آئی سی ٹی لیبارٹیز اور اسمارٹ کلاسز فراہم کئے جائینگے ۔ایک سو سکولوں میں سائینس سینٹرز کا قیام اور نئے ساڑھے پانچ سو سکولوں میں پیشہ وارانہ تعلیم متعارف کی جاے گی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سکولوں سے فارغ ہونے والے طلبہ کسی بھی صورت میں روزگار کے لئے کسی دوسرے کے محتاج نہیں رہینگے وہ از خود اپنا روزگار کما سکتے ہیں ۔اسی طرح کھیل سرگرمیوں کو فروغ دینے زرعی سیکٹر کو بڑھاوا دینے پر بھی جموں کشمیر بجٹ میں خاص خیال رکھا گیا ۔پانچ سالوں میں 5013کروڑ روپے کے ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت منظور شدہ تمام 29پروجیکٹوں کے نفاذ کے علاوہ دوسرے ایسے اقدامات شامل کئے گئے جن سے زرعی سیکٹر کو بڑھاوا مل سکتاہے ۔غرض جموں کشمیر کے بجٹ میں ایسے بہت سے سیکٹروں کا احاطہ کچھ اس انداز سے کیا گیا جن سے عام لوگوں کو بھر پورفایدہ مل سکتاہے ۔









