میڈیا میں گذشتہ کئی دنوں سے یہ خبر گشت کرنے لگی ہے کہ سرینگر سمارٹ سٹی لمیٹیڈ وادی میں آبی ٹرانسپورٹ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔یہ ایک مستحسن قدم ہوگا جس طرح وادی اور شہر میں ای رکھشا سروس اور ای بس سروس کا عام لوگوں نے بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا ہے اسی طرح دریائی ٹرانسپورٹ کی شروعات سے لوگوں کو کافی سہولیات مل سکتی ہیں اور وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک آنے جانے کیلئے روایتی ٹرانسپورٹ سروس کے محتاج نہیں رہینگے ۔اس کے ساتھ ہی ماحولیات کا جہاں تک تعلق ہے تو اس سے ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے کافی مدد مل سکتی ہے بشرطیکہ ایس ایس سی ایل اس بارے میں سنجیدہ اقدامات اٹھائے گی کیونکہ ایک بار تو آبی ٹرانسپورٹ شروع کیا گیا تھا اور دریائے جہلم میں گھاٹوں کی نشاندہی بھی کی گئی تھی لیکن بعد مین اس پروجیکٹ کو بند کردیا گیا ۔ایس ایس سی ایل کے تحت فلیگ شپ پروجیکٹ کا مقصدسرینگر شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک متبادل طریقہ فراہم کرنا ہے اور تقریباً تین چار دہائیوں بعد آبی ٹرانسپورٹ کو بحال کرنا عام لوگوں کو راحت دینے کے مترادف ہے ۔سمارٹ سٹی لمیٹیڈ کے چیف پروجیکٹ افسر نے ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ پروجیکٹ اپنے ٹینڈرنگ کے آخری مرحلے میں ہے اور اسے مکمل ہونے میں ابھی تین سے چار ماہ تک لگ سکتے ہیں ۔اس بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ ”ٹینڈرنگ عمل کی تکمیل کے بعد ،ہم آخر کار جدید موٹرائیزڈ بوٹس اور دیگر ساز و سامان خریدنے کے قابل ہوجائینگے تاکہ منتخب آبی راستوں پر آمدورفت شروع کی جاسکے “ انہوں نے کہا کہ ”ابتدائی طور پر ہم کامیاب بولی دہندہ سے 25کشتیاں خریدیں گے اور پہلے مرحلے پر دریائے جہلم اور ڈل جھیل سے واٹر ٹرانسپورٹ کی سہولیات شروع کرینگے “انہوں نے مزید کہا کہ ”انتظامیہ پہلے ہی شہر سرینگر میں کم از کم 13راستوں کو حتمی شکل دے چکی ہے جو آبی نقل و حمل کے منصوبے کے تحت آینگے ۔انہوں نے کہا کہ یہ باوقار منصوبہ کشمیر میں آبی ذخائیر کی ماضی کی شان کو زندہ کرے گا ۔“ اس افسر کا مزید کہنا ہے کہ ”دریائے جہلم اور ڈل جھیل کے بعد یہ منصوبہ گلسر جھیل جیسے دیگر آبی ذخائیر کا احاطہ کرے گا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آبی نقل و حمل کی خدمات پہلے مارچ میں شروع ہونے والی تھی تاہم بعض ناگزیر حالات کی وجہ سے اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکاہے ۔دریائے جہلم کے کنارے ہاوس بوٹ مالکان کو اپنی روزی روٹی کے تحفظ کے حوالے سے کئی خدشات لاحق تھے ۔انہوں نے واٹر ٹرانسپورٹ کے افتتاح سے قبل ہاوس بوٹس کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا تھا ۔سال 1970 جھیل ڈل اور جہلم میں کشتیاں نقل و حمل کا ایک مقبول ذریعہ تھیں اور زیادہ تر تجارتی سامان ،کھانے پینے کی اشیاء،سبزیاں ،وغیرہ کشتیوں کے ذریعے ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لائی جاتی تھیں لیکن بعد میں ان کی جگہ گاڑیوں نے لے لی ۔محکمہ شالی سٹور کی طرف سے لوگون کو جو ماہانہ راشن دیا جاتا تھا وہ بھی دریائے جہلم میں بڑی بڑی کشتیوں کے ذریعے فراہم کیا جاتاتھا اور لوگ ان ہی کشتیوں سے راشن حاصل کرتے تھے ۔ان کو کشمیری زبان میں گھاٹ کہا جاتا تھا ۔اس کے علاوہ بڑے بڑے شہتیروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لانے اور لے جانے کے لئے دریائی ٹرانسپورٹ کا ہی استعمال کیا جاتا تھا لیکن بعد میں کشتیون کی جگہ گاڑیوں نے لے لی اور اب جبکہ دوبارہ آبی ٹرانسپورٹ شروع کیا جارہا ہے یہ اب کشمیریوں کے لئے منفرد تجربہ ہوگا جو کامیابی سے ہمکنار ہوسکتاہے۔











