منشیات کے استعمال کی روک تھام کے عالمی دن پر وادی بھر میں تقریبات منعقد ہوئیں ۔طلبہ طالبات نے منشیات کے استعمال کے خلاف ریلیاں نکالیں ،بحث مباحثوں کا اہتمام کیا گیا ۔پولیس کی طرف سے بھی تقریبات کا انعقاد عمل میں لایا گیا اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے اس موقعے پر منشیات سے پاک سماج کی تعمیر میں کلیدی رول ادا کرنے کا عزم دہرایا۔ہمارے سماج کا ہر فرد چاہے وہ مزدور ہو ،کسان ہو ،تاجر یا ملازم ہو افسر ہو یا پولیس اہلکار ہو فوجی ہو یا کوئی اور ہر شخص منشیات کا قلع قمع کرنے کیلئے سرکار کے ساتھ تعاون دینے کے لئے تیار ہے ۔ہر کوئی اس بات پر متفکر نظر آرہا ہے کہ کشمیری سماج میں کیونکر منشیات کے استعمال کا رحجان بڑھتا جارہا ہے جبکہ ہر شخص اس کے خلاف ہے ۔پولیس بھی ڈرگ سمگلروں کے پیچھے اور عام لوگ بھی نشہ آور اشیاءکا دھندا کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے لوگ چاہتے ہیں کہ جو لوگ اس دھندے میں ملوث پائے جائینگے انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے ۔لیکن تعجب کا مقام ہے اس کے باوجود وادی میں منشیات کا دھندا بڑھتا ہی جارہا ہے ۔اگرچہ روز پولیس کی طرف سے ڈرگ سمگلروں اور منشیات کے دھندے سے وابستہ لوگوں کو گرفتار کرنے اور بھاری مقدار میں نشہ آور اشیاءضبط کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان نشہ خوری میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔جب تک ان کے پاس نشہ آور اشیاءآسانی سے نہیں پہنچ پاتیں پھر نوجوان کس طرح نشہ کرسکتے ہیں ؟۔اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔گویا ڈرگ سمگلروں کا نیٹ ورک اس قدر منظم اور مضبوط ہے کہ پولیس اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی ڈرگ سمگلروں کے خلاف زبردست تگ و دو کے باوجود یہ لوگ اپنا غیر قانونی دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں ۔جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نوجوانوں کا مستقبل تاریک بنتا جارہا ہے کیونکہ ڈرگ سمگلروں کو پیسے سے غرض ہے انہیں نوجوانوں کے مستقبل کی کیا پروا؟ماہرین طب کا کہنا ہے کہ جو شخص چاہئے مرد ہو یا عورت ایک بار نشہ آور اشیاءکا شکار بن جاتا ہے پھر وہ اس کا اس قدر عادی بن جاتا ہے کہ مرنے کے وقت تک یہ عادت اس سے نہیں چھوٹتی ۔اسلئے اب یہ پولیس کے ساتھ ساتھ عوام پربھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ڈرگ سمگلروں کے خلاف کاروائی میں پولیس اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ بھر پور تعاون کریں ۔لوگوں کو چاہئے کہ انہیں جس کسی پربھی منشیات کا دھندا کرنے کے بارے میں شک و شبہ ہو تو پولیس کو فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ کشمیری نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ نشہ آور اشیاءکا استعمال کرنے سے سب سے پہلے دماغ ماوف ہوجاتا ہے اور اس کے بعد پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں ۔جسم میں مخصوص اعضا ءپر کینسر کے لاکھوں خلیات جنم لیتے ہیں جو لاعلاج بن کر نوجوان کی جان لے کر ہی دم لیتے ہیں ۔نشے کا عادی شخص کوئی بھی کام کاج کرنے کے لایق نہیں رہتا۔اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہوجاتی ہیں اور وہ رشتوں کو بھی بھول جاتا ہے اس میں ماں بہن بیٹی کے رشتوں کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتاہے اور وہ نشے کے عالم میں کچھ ایسا بھی کرسکتاہے جو اخلاقی طور پر ناجائیز ہوتا ہے ۔اسلئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ڈرگ سمگلروں کے خلاف صف آرا ہوجائیں۔












