شہر خاص کے سب سے زیادہ گنجان آبادی والے علاقے بہوری کدل میں 24جون بروز سوموار آتشزدگی کی بھیانک واردات رونما ہوئی جس میں تواریخی بازار مسجد ،نصف درجن شاپنگ کمپلیکس ایک درجن سے زیادہ رہایشی مکانات ،گودام ،دکانیں اور دوسرے ڈھانچے پوری طرح خاکستر ہوگئے ۔نقصان کا اندازہ کروڑوں میں لگایا جارہا ہے ۔آگ کی واردات دوپہر کے وقت نمودار ہوگئی جس نے آناً فاناً مسجد شریف کے علاوہ آس پاس کے مکانوں وغیرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں خاص طور پر نوجوانوں نے جان جوکھم میں ڈال کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن چونکہ وہاں بیشتر پرانے طرز کے مکانات ہیں جو سب کے سب لکڑی کے بنے ہوئے تھے ان مکانات میں آگ تیزی سے پھیل گئی اور اس طرح اس آگ نے تواریخی بازار مسجد ،چھ شاپنگ کمپلیکسوں کے علاوہ ایک درجن سے زیادہ مکانوں ،دکانوں ،گوداموں اور دیگر ڈھانچوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔پولیس بھی جاے واردات پر پہنچ گئی اور فائیر بریگیڈ عملہ بھی مستعدی سے آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں لگا رہا لیکن آگ اس قدر تیزی سے پھیلتی گئی اور تقریباً چار پانچ گھنٹے کے بعد آگ پر پوری طرح قابو پایا جاسکا ۔آگ نے اس علاقے میں کس قدر تباہی مچادی اس کا اندازہ ہر کوئی لگاسکتاہے ۔آگ سے ان لوگوں کے مکان اور ان میں موجودہ اثاثہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا جن کی روزی روٹی مشکل سے چلتی ہے ۔وہ محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتے تھے ۔اسی طرح جو شاپنگ کمپلکس خاکستر ہوگئے ان میں موجود لاکھوں کروڑوں کا مال جل کر راکھ بن کر رہ گیا ۔اس کے ساتھ مسجد شریف بھی جل گئی ۔یہ دوسری مرتبہ ہے جب بازار مسجد آگ کی لپیٹ میں آگئی ۔گذشتہ برس بھی یہ مسجد اور اس کے آس پاس کچھ رہایشی مکانات اور دکانیں جل گئی تھیں اس کے بعد اس مسجد کی دوبارہ تعمیر و تجدید کی گئی تھی جبکہ اس وقت جو رہایشی مکان وغیرہ جل گئے تھے انہون نے بھی حالات پر قابو پالیا تھا لیکن اب کی بار جو آگ لگ گئی اس نے کیا رہایشی اور کیا تاجر سب کو کھلے آسمان کے نیچے لاکھڑا کردیا ۔جن لوگوں کے رہایشی مکان جل گئے وہ بھی خالی ہاتھ کھلے آسمان کے نیچے آگئے اور جن تاجروں کی دکانیں ،گودام ،شوروم وغیرہ آگ کی زد میں آگئے وہ بھی خاک میں مل گئے ان تاجروں کے پاس بھی کچھ نہیں رہا ۔اس واردات پر سب لوگ کف افسوس ملنے لگے ۔ڈپٹی کمشنر سرینگر بھی جاے واردات پر آگئے اور متاثرین کو دلاسہ دیا لیکن اب اصل مسلہ سب متاثرین کی باز آباد کاری کا ہے ان کی کس طرح اور کس حد تک مدد کی جاے جس سے وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں گے۔جو لوگ آگ سے متاثر ہوئے ہیں ان کے پاس کچھ نہیں بچا ہے ۔ان کے اوپر آسمان اور نیچے زمین ہے ۔وہ کریں تو کیا کریں ؟ جائیں تو کہاں جائیں ؟اب اس معاملے میں سب سے زیادہ حکومت پر ان کی باز آباد کاری کی ذمہ داری ہے ۔جو گھروالے آگ سے بے گھر ہوگئے ان کو وہ سب کچھ ملنا چاہئے جس سے وہ اپنے لئے آشیانے تعمیر کرسکیں اور جو تاجر متاثر ہوئے ہیں وہ کیسے دوبارہ اپنی تجارت کو سنبھال سکتے ہیں اور کس طرح خود کو سنبھال سکتے ہیں اس کے لئے تاجروں کو بھی اعتماد میں لے کر حکومت کو ان کی بھر پور معاونت کرنی چاہئے تب کہیں جاکر متاثرین دوبارہ روزمرہ کی زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکیںگے ۔












