Daily Aftab
20 جنوری ,2026
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار
  • Edition
    • اردو
    • English
Daily Aftab
ADVERTISEMENT

دیوی کی زمین پر خواتین غیر محفوظ

by Online Desk
23 جون 2024
A A
0
SHARES
23
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp
ADVERTISEMENT

ملک میں ہر 20 منٹ میں زنا بالجبر کا ایک واقعہ پیش آتا ہے، جبکہ جنسی زیادتی کے 70 کیسوں میں صرف ایک ہی کیس کا اندراج ہو پاتا ہے۔ شہروں میں دیکھا جائے تو دہلی اس معاملے میں سب سے آگے ہے

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں رہنے والی کوئی خاتون یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس کو کبھی عوامی مقامات پر ہراسانی یا خوف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ خوف ہر قدم پر ہمارے سر پر منڈلاتا ہے، وہ بازار ہو، دوکان ہو، راستہ ہو، دفتر ہو یا پھر کوئی پارک۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کو روزآنہ کی بنیاد پر ہراساں کیا جانا ایک معمول ہے۔ کبھی کوئی لفظ، کبھی صرف نظر اور کبھی کسی دوسرے کی کوئی بیہودہ حرکت ہمارے معاشرے کی عورت کا مقدر ہے۔ یہ سب ایسی صورت میں ہے جب حکومت ماوں بہنوں کی حفاظت کی گارنٹی لینے کا دم بھرتی ہے۔ یہ صورت حال اس ملک کی ہے جہاں عورتوں کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے، گلے گلے پھاڑ پھاڑ کر بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کی مہم چلائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

(صاف ہوا کے عالمی دن پر فضا کو آلودگی سے بچانے کا عزم)

(سیلاب کی روک تھام کیلئے ندی نالوں کی ڈریجنگ)

(سانحہ کشتواڑ ،ہر آنکھ اشکبار ہر دل اُداس)

ADVERTISEMENT

بیٹی پڑھانے کا نعرہ لگانے والی حکومت خواتین کے لیے کتنی سنجیدہ ہے اس بات کا اندازہ ان خاتون کھلاڑیوں کے آنسووں سے لگایا جا سکتا ہے جنہوں نے کئی بین الاقوامی مقابلے جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ یہی بیٹیاں جب اپنے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کے ملزم بی جے پی کے شہ زور لیڈر برج بھوشن سنگھ کے خلاف آواز اٹھا کر انصاف مانگنے کے لیے سڑک پر اترتی ہیں تو بھوشن سمیت پورا حکمراں طبقہ ان بیٹیوں کو ہی ’بد کردار‘ ثابت کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ حد تو تب ہو جاتی ہے جب اپنے ہنر کے جوہر دکھا کر میڈل حاصل کرنے والی ہندوستان کی یہ بیٹیاں سڑک پر رو رو کر انصاف مانگتی ہیں اور مودی حکومت کے ساتھ ہمارا سماج بھی شرمناک بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان میں جہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے سنگین واقعات سامنے آتے رہے ہیں وہیں خواتین کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات میں بھی سر فہرست ہیں ۔ ہندوستان میں خواتین کے خلاف چوتھا سب سے عام جرم عصمت دری ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے محکمہ این سی آر بی کی رپورٹ 2023 کے مطابق ملک میں خواتین ہمیشہ سے ہی جنسی زیادتی اور تشدد کا شکار رہی ہیں، صرف 2020 میں 3 لاکھ 71 ہزار 503 مقدمات رپورٹ کیے گئے، 2021 میں عصمت دری کے 4 لاکھ 28 ہزار 278 سے زائد مقدمات رپورٹ ہوئے جب کہ 2023 میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں سنگین حد تک اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کے تمام دعووں کے باوجود ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں آج بھی ریپ، جہیز، کام کی جگہ پر استحصال اور اسی طرح کے دوسرے مسائل سے عورت دوچار ہے، جنسی تناسب کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم کی ہر جگہ جنسی امتیاز کی صورت دیکھنے کو ملتی ہے۔ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود عصمت دری اور اجتماعی آبروریزی کے واقعات اس لیے نہیں رک پا رہے ہیں کیونکہ با اثر مجرموں کو نہ صرف رہا کر دیا جاتا ہے بلکہ سیاسی پارٹیاں ان کی حمایت میں کھڑی ہو جاتی ہیں اور رہائی کے بعد ان کا سماجی خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے مجرموں کی گجرات کی ریاستی حکومت کی ایما پر رہائی اور ان کا ’شاندار استقبال‘ اس سلسلے کا حالیہ واقعہ ہے۔

موجودہ صورتحال میں آزادی، مساوات اور عدل و انصاف کو جو معنی دیے جا رہے ہیں، وہ مغرب کی اصطلاح ہے۔ صنفی برابری کے اس فنڈے کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس برابری کی لڑائی کا حصہ بننے سے پہلے ہمیں اس کی اصل کو سمجھنا چاہیے۔ اس نعرے کی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے آزادی نسواں کے نعرے لگانے والوں کی طرح مرد و عورت دونوں کو ایک ہی دائرے میں رکھ کر ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج مغرب نے مساوات کے نام پر اِنسانیت کو بانٹنے کا کام کیا ہے۔ اس نے عورت کو برابر کا حصہ دینے کی بات تو کی ہے، لیکن اسے اس کے پورے حقوق نہیں دیے۔ یعنی پہلے اسے حق سے محروم کیا اور پھر اسے کم حق دے کر برابر کا کام کرنے کے لیے تیار کیا اور اسے گھر سے باہر نکال کر نوکریوں اور مختلف پیشوں سے جوڑ دیا۔

اب آزادی اور برابری کی جو لالچ دے کر عورت کو گھر سے باہر نکالا گیا تھا، اسے امپاورمنٹ کا نام دے کر اس کا استحصال کیا گیا۔ پھر ہیومن لبریشن کی ایک جنگ چھیڑ دی گئی اور اسے جن حقوق سے محروم کیا گیا تھا، اسے لینے کے لیے تیار کیا گیا۔ یہی نہیں، گھروں کو خیرباد کہنے کے بعد اسے باہر نکال کر مردوں کے لیے سیر و تفریح کا سامان بنا دیا گیا۔ کہیں وہ ماڈلنگ کی دنیا میں آزمائی گئی، کہیں لوگوں کے لیے سامان بیچنے کا ذریعہ بنی۔ رہی سہی کسر مال کے کلچر نے پوری کر دی، جہاں اسے سیلز گرل کے نام پر گراہکوں کا دل بہلانے کی ذمہ داری دے کر اس کا استحصال کیا گیا۔ گویا وہ لوگوں کے لیے ایک نوالہ تر بنتی اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑتی رہی اور گھر کو چھوڑ کر وہ باہری دنیا میں قدم رکھنے کے بعد بھی آج تک صنفی مساوات کی لڑائی میں مصروف ہے۔

آخر ہم کس ہندوستان میں جی رہے ہیں ؟ اور کس صدی کی بات کرتے ہیں؟ اکیسویں صدی کے 2021،2022اور2023 کی کرائم رپورٹس اگر پڑھ لیں تو ہم ’بیٹی پڑھاؤ‘ کو چھوڑ کر صرف ’بیٹی بچاو ‘کے نعرے کو زبان سے لگانے پر مجبور ہوں گے۔ جب ہماری بیٹیاں بچیں گی، تبھی تو وہ پڑھ سکیں گی۔ آج اس نعرے کے ساتھ ہی مجروح ہوتی بیٹیاں، جن کا کبھی حجاب اتروایا جاتا ہے، کبھی جن کے پردے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اپنے حقوق کو مانگتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ بات سیکیورٹی کی ہو، مذہبی تشخص کی ہو یا تحفظ کی ہو، سبھی اس زمرے میں آتی ہیں۔بات خواہ اگست 2023 کے پولیس کا نسٹیبل رابعہ سیفی کی ہو ،جسے ڈیوٹی کرتے ہوئے اغوا کرکے اس کی عصمت دری کے بعد بے رحمی سے قتل کردیا گیا، سوال یہ ہے کہ ہم خواتین کی کیا تصویر پیش کررہے ہیں؟

وطن عزیز میں خواتین پر جنسی تشدد کے واقعات میں اضافے نے ہمارے معاشرے پر ایک بدنما داغ لگادیا ہے۔روزانہ ملک کے کسی نہ کسی قصبے، صوبے یا شہر سے ایسی خبریں سننے میں آتی ہیں کہ دل کانپ جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات نہ صرف لمحہ فکریہ ہیں بلکہ حکومت اور معاشرے کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں کہ ملک کے مستقبل کو درندہ صفت حیوانوں سے کیسے بچایا جائے؟جبکہ ملک کا قانونی نظام بھی ان واقعات میں اضافے کی ایک وجہ ہے، جس میں مقدمات کے فیصلے ہونے میں بہت زیادہ تاخیر ہوجاتی ہے۔ ملک میں ہر 20 منٹ میں زنا بالجبر کا ایک واقعہ پیش آتا ہے، جبکہ جنسی زیادتی کے 70 کیسوں میں صرف ایک ہی کیس کا اندراج ہوپاتا ہے۔ شہروں میں دیکھا جائے تو دہلی اس معاملے میں سب سے آگے ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تودیوی دیوتاوں کی سرزمین آج خواتین کے لیے غیرمحفوظ ہوگئی ہے۔ ہماری ثقافت میں منافقت اپنی جڑیں مضبوط کرچکی ہے، ایک طرف دیویوں کی پوجا کی جاتی اور دوسری جانب جب ماوں، بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کی بات آتی ہے تو ان کے ساتھ بالکل مختلف رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ خواتین کے ساتھ سلوک کرنے کی بات آ ئے تو ہندوستانی دہرا میعار رکھتے ہیں جو کہ منافقت ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت اس ہستی کا نام ہے جس کے بغیراس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ماں، بہن، بیٹی ، بیوی ، بہوجس روپ میں بھی ہوتی ہے ،اپنا تن ،من ، دھن سب کچھ اپنے گھر والوں پرقربان کر دیتی ہے مگر پھر بھی ہمیں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس محبت کے پیکر کو ہر دور میں دنیا نے اپنے پاوں تلے روندا ہے۔

جنسی جرائم کے سدباب کے لیے صرف زنا پر سخت سزا کو کافی نہ سمجھتے ہوئے زنا پر اکسانے والے تمام محرکات، جیسے شراب پر اور دیگر نشہ آور چیزوں پر پابندی عائد کی جائے۔ مردوں اور عورتوں کے اختلاط کو حتی المقدور روکا جائے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو ساتر اور شائستہ لباس پہننے کی ترغیب دی جائے۔ اس طرح کی آزادی اور مساوات، جو اپنی تفصیلات کے ساتھ قانون فطرت کے خلاف ہے اور جب بھی انسان اس سے ٹکراتا ہے تو پھر تباہی و بربادی ہاتھ آئی ہے، جس کی مثال ایڈز اور دوسری جان لیوا بیماریاں ہیں۔ اس لیے پوری دنیا کو سمجھانا چاہیے کہ قانونِ فطرت سے ٹکرانا کتنا خطرناک ہے۔ اس کے برعکس خالقِ فطرت کا قانون اور عورت و مرد کے مساویانہ تفریق عدل و انصاف کے ساتھ خالق کائنات نے کی ہے، اسے تسلیم کیا جائے اور دونوں کو اس کے دائرے کار میں رکھتے ہوئے ان کے کام متعین کیے جائیں۔

Like this:

Like Loading...

اسی بارے میں

(موسم کا قہر ،متاثرین کی فوری باز آباد کاری )
ادارتی

(صاف ہوا کے عالمی دن پر فضا کو آلودگی سے بچانے کا عزم)

11 ستمبر 2025
بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 205 پہنچ گئی
ادارتی

(سیلاب کی روک تھام کیلئے ندی نالوں کی ڈریجنگ)

25 اگست 2025
کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلابی ریلے نے تباہی مچادی
ادارتی

(سانحہ کشتواڑ ،ہر آنکھ اشکبار ہر دل اُداس)

16 اگست 2025
مچھلیوں کی موت ،معاملہ تحقیقات طلب
ادارتی

(آزادی کا جشن اور ہماری ذمہ داریاں)

15 اگست 2025
مچھلیوں کی موت ،معاملہ تحقیقات طلب
ادارتی

(آزادی کا جشن اور ہماری ذمہ داریاں)

14 اگست 2025
(موسم کا قہر ،متاثرین کی فوری باز آباد کاری )
ادارتی

(یوم آزادی ،ہر گھر ترنگا اور ترنگا یاترا)

11 اگست 2025
کچرے سے پاک ہندوستان کیلئے عوامی تحریک
ادارتی

(سیاحت کے حوالے سے اقتصادی جائیزہ )

31 جولائی 2025
برف باری کے ساتھ ہی سیاحتی مقام گلمرگ میں سیاحوں کا غیر معمولی رش
ادارتی

(بند پڑے صحت افزا مقامات دوبارہ کھولنے کی ضرورت)

29 جولائی 2025
صدر ہسپتال کا واقعہ قصوروارسزا کا مستحق
ادارتی

صدر ہسپتال کا واقعہ قصوروارسزا کا مستحق

25 جولائی 2025
Next Post
تین سالہ لڑکی نے پولیس کے سامنے ماں کی موت کا راز کھول دیا

اندور میں کیلاش وجے ورگیہ کے قریبی بی جے پی لیڈر مونو کلیانے کا گولی مار کر قتل، علاقے میں سنسنی

اہم خبریں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

دیوی کی زمین پر خواتین غیر محفوظ
ادارتی

دیوی کی زمین پر خواتین غیر محفوظ

23 جون 2024
وادی بھر میں شب معراج کی تقریبات منعقددرگاہ حضرتبل میں اتوار کو عاشقان رسول موئے مقدس کے دیدار سے فیضاب
جموں و کشمیر

وادی بھر میں شب معراج کی تقریبات منعقد
درگاہ حضرتبل میں اتوار کو عاشقان رسول موئے مقدس کے دیدار سے فیضاب

19 فروری 2023
 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ
تازہ ترین خبریں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

11 دسمبر 2025
مرحوم ثناءاللہ بٹ صحافت کے اُفق پر ایک چمکتا ہوا تارہ
ادارتی

مرحوم ثناءاللہ بٹ صحافت کے اُفق پر ایک چمکتا ہوا تارہ

25 نومبر 2021
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • اشتہار دینا
  • ہم سے رابطہ کریں

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

No Result
View All Result
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

ہم کوکیز کو مواد اور اشتہارات کو ذاتی بنانے ، سوشل میڈیا کی خصوصیات فراہم کرنے اور اپنے ٹریفک کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Discover more from Daily Aftab

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

%d