وزیر اعظم نریندر مودی کا دو روزہ دورہ اس لحاظ سے کامیاب قرار دیا جاسکتاہے کیونکہ انہوں نے یہاں کے نوجوانوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ مرکزی حکومت کے علاوہ ایل جی انتظامیہ انہیں بااختیار بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے ۔اس سلسلے میں یہاں ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں انہوں نے یہاں کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے ہاتھ میں لئے گئے مختلف پروجیکٹوں اور منصوبوں کی وضاحت کی اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے اور ان کو ایک مثبت جہت دینے کے لئے محنت کریں ۔نوجوانوں نے وزیر اعظم کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ موجودہ دور میں جبکہ قدم قدم پر مسایل و مشکلات نوجوانوں کو درپیش ہیں وزیر اعظم یہاں کے نوجوان طبقے کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات اٹھائینگے ۔وزیر اعظم نے اس تقریب پر تقریر کرتے ہوے کہا کہ جب نوجوان ترقی کی ڈگر پر چلنا شروع کرینگے تو معاشرے میں خود بخود تبدیلیاں آئینگی ۔اس دوران وزیر اعظم نے جموں کشمیر کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے بھی اپنی تقریر میں ایسی باتیں بتائیں جن کا مطالبہ سیاستدان کرتے آے ہیں ۔انہوں نے واشگاف طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات جلد از جلد کروانے کے لئے کاروائی کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمشن کام پر لگا ہواہے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ دیا جاے گا۔ سیاسی حلقوں نے وزیر اعظم کے ان دونوں اعلانات کا جہاں خیر مقدم کیا ہے وہیں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی جموں کشمیر کو حسب سابق ریاست کا درجہ دیا جاے ۔کیونکہ یہ پہلے ایک ریاست ہی تھی لیکن اسے یوٹی بنایا گیا اب اسے دوبارہ ریاست بنانے کی مانگ گذشتہ ایک دو برسوں سے زور پکڑ نے لگی تھی ۔وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کے بارے میں بار بار تذکرہ کیا تھااور اب وزیر اعظم نے جس طرح اس بارے میں بیان دیا وہ ہر لحاظ سے قابل اعتماد ہے ۔وزیر اعظم نے اپنے مختصر دورے کے دوران یہاں پندرہ سو کروڑ مالیت کے 84ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور بعض کا افتتاح بھی کیا جو کہ کشمیری عوام کے لئے خوش آیند بات ہے کیونکہ جتنے زیادہ ترقیاتی پروجیکٹ ہونگے یہ خطہ اسی قدر ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکتاہے ۔واپس نئی دہلی روانگی سے قبل انہوں نے بین الاقوامی یوگا ڈے کی شاندار تقریب کی قیادت بھی کی جس میں برستی بارش کے باوجود سات ہزار سے زیادہ نوجوانوں ،طلبہ ،طالبات ،ملازمین اور دوسرے لوگوں نے شرکت کرکے یوگ کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا ۔لوگوں نے یوگ کی اہمیت کو سمجھا اور اسے اسی دن تک محدود نہ رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوے اسے گھر پر بھی کرنے کا اعلان کیا کیونکہ یوگ صحت مند زندگی گذارنے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جاسکتاہے ۔اس وقت دنیا بھر میں نئی نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور اس خطے خاص طور پر وادی میں بھی بیماریاں پھیل رہی ہیں ان کے بارے میں وقتاً فوقتاً جو اعداد و شمار ظاہر کئے جارہے ہیں وہ چونکا دینے والے ہوتے ہیں یوگ سے ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جسم میں قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے جس سے بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اسی لئے پوری دنیا یوگ کی جانب مایل ہورہی ہے ۔











