شدت کی گرمی کا سلسلہ جاری ہے اور ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ تقریباً58برسوں کے بعد مئی کے مہینے میں پارہ 30ڈگری پار کرگیا ۔لوگ پسینے میں شرابور کام تو کررہے ہیں لیکن انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔کہیں پانی کی عدم دستیابی تو کہیں بجلی نہیں ۔غرض یہ موسم ہر ایک کے لئے مصیبت سے کم نہیں ۔موسم کے قہر کو دیکھتے ہوے محکمہ ہلیتھ ،ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور محکمہ فائیر اینڈ ایمر جنسی سروسز کی طرف سے لوگوں کے نام ایڈوائیزریاں جاری کردی گئیں جن میں لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے جان و مال کی کیسے حفاظت کرسکتے ہیں اور موسم کی مار سے بچنے کیلئے انہیں کیا کیا کرنا ہوگا۔اب تو لوگوں پر اس کاانحصار ہے کہ وہ کس طرح ان ایڈوائیزریوں پر عمل کرکے خود کو بچانے کی کوشش کرینگے۔گرمیوں میں زیادہ تر لوگ سن سٹروک کا شکار ہوتے ہیں اسلئے محکمہ ہیلتھ نے اپنی ایڈوائیزری میں لوگوں سے کہا کہ وہ سن سٹروک سے بچنے کیلئے زیادہ دیر تک دھوپ میں کام کاج کرنے یا گھومنے پھرنے سے احتراز کریں ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چونکہ اس موسم میں پسینہ زیادہ بہتا ہے اسلئے زیادہ سے زیادہ پانی یا جوس وغیرہ کا استعمال کیا جانا چاہئے تاکہ ڈیہایڈریشن سے بچا جاسکے بصورت دیگر صحت کے حوالے سے مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔روزانہ نہانا چاہئے اور صاف ستھرے کپڑے پہننے اور تازہ کھانا کھانے سے مختلف بیماریوں سے چھٹکارا مل سکتاہے ۔بجلی کے منصفانہ استعمال کے ساتھ ساتھ تاروں کو اچھی حالت میں رکھنے ،ساکٹ پر دباﺅ نہ ڈالنے اور برقی آلات کو مسلسل اور بغیر رکاوٹ چالو رکھنے سے بھی آگ کا خطرہ پیدا ہوسکتاہے اسلئے اس سلسلے میں محکمہ فائیر سروسز نے جو ایڈوائیزری جاری کی ہے اس پر عمل درآمد سے لوگ ناگہانی آفت سے بچ سکتے ہیں ۔اس بارے میں کسی بھی غفلت شعاری کے نتایج بھیانک نکل سکتے ہیں ۔لیکن وادی کے مختلف علاقوں سے صارفین بذریعہ فون اور سوشل میڈیا کے ذریعہ محکمہ بجلی اور محکمہ واٹر ورکس کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عاید کررہے ہیں ۔لوگوں کو کہنا ہے کہ غضب کی اس گرمی میں ہر دو تین گھنٹے بعد بجلی چلی جاتی ہے اور پھر اس کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا ہے کیونکہ بجلی بعد میں گھنٹوں آف رکھی جاتی ہے ۔بجلی آف رکھنے سے کتنی تکلیف کا سامنا صارفین کو ہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔جبکہ شہر میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں نل خشک پڑے ہیں اور لوگ بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔اس پر طرہ یہ کہ محکمہ بجلی کی ایک ونگ صارفین سے کہتی ہے کہ وہ بجلی کا ناجائیز استعمال نہ کریں ۔اگر محکمہ بجلی طرف سے اسی فی صد صارفین کو سمارٹ میٹروں کے دائیرے میں لایا گیا تو پھر ہکنگ یا بجلی کے ناجائیز استعمال کا سوال کیسے پیدا ہوتاہے ؟اور اگر کہیں کوئی بجلی کی چوری وغیرہ کرتے ہوئے پکڑا جاے گا تو اس کے خلاف جائیز کاروائی پر کس کو اعتراض ہوسکتاہے لیکن کشمیری عوام کو اس بارے میں درس دینے کے بجاے محکمے کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کس طرح وہ اپنے ملازمین کی جانیں بچاسکتے ہیں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران چار لائین مین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اس بارے میں محکمے کے حکام نے ایک بھی بیان جاری نہیں کیا بلکہ لوگوں پر بجلی چوری کے الزامات لگائے جاتے ہیں ۔یہ بات بغیر کسی لاگ لپٹی کے کہی جاسکتی ہے کہ محکمہ بجلی اور محکمہ واٹر ورکس عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔اور موسمی قہر میں لوگوں کو شدید مشکلات پیش آرہی ہیں ۔











