جموں کشمیر میں تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلیا ں آئی ہیں جن کا اندازہ سب لوگ اس وقت لگارہے ہیں ۔اس سے قبل تعلیم کا شعبہ افراتفری اور انتشار کا شکار تھا ۔سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی حالت خراب تھی اور پورا تعلیمی ڈھانچہ بکھرا پڑا تھا ۔اس میں کسی کا قصور نہیں تھا کیونکہ حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ سب سے زیادہ تعلیمی شعبہ متاثر ہوا ۔دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد اگرچہ حالات کے شکار ہو نے کے باوجود پھر سے سنبھلنے لگے ہیں لیکن تعلیم کا شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوا غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے گذشتہ برسوں میں تعلیمی شعبہ بُری طرح حالات کا شکارہوگیا یعنی جب سکول ہی کھلُے نہیں تو نونہال جن کی عمریں کچھ سیکھنے اور پڑھنے لکھنے کی تھیں در در بھٹکنے لگے ۔کوئی کام ڈھنگ نہیں ہو پارہا تھا ۔غرض زندگی کا ہر شعبہ بکھر کر رہ گیاتھا۔لیکن سال 2019سے تعلیمی سیکٹر ہر گذرتے دن کے ساتھ نئے انداز بدلتا گیا یعنی حکومت کی کاوشوں سے یہاں یعنی اس شعبے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔اس سے پہلے جس محکمے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ نامساعد حالات میں یہ محکمہ صرف تبادلوں تک ہی محدود ہوکر رہ گیا تھا لیکن اب اس میں جان آگئی اور اس محکمے میں کام کرنے والے اساتذہ جن میں اچھی خاصی تعداد خواتین ٹیچرز کی ہے نے بخوبی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور ورک کلچر کو فروغ دینے کی کوششیں شروع کی گئیں جو اب تک جاری ہیں۔ٹیچرز بحیثیت مجموعی وقت پر ڈیوٹیاں انجام دے کر اپنا خون جگر ان بچوں کو پلارہے ہیں جن کو تعلیم کے نور سے منور کرنے کی ان کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔یعنی اب یہ شعبہ برابر آگے بڑھتا جارہا ہے ۔جموں میں ایک تقریب پر تقریر کرتے ہوے لیفٹننٹ گورنر نے سچ ہی کہا کہ جموں کشمیر میں تعلیمی شعبہ گذشتہ تین دہائیوں سے جمود کا شکار تھا یعنی تعلیمی شعبے کا پورا نظام منتشر ہوچکا تھا اور اس کی اہمیت اور افادیت کا کسی کو کوئی خیال یا پاس لحاظ تک نہیں تھا ۔تعلیم ہی ایک ایسا زیور ہے جس سے ایک بچہ آگے بڑھ کر زندگی کی دوڑ دھوپ میں کامیابی سے منزلیں طے کرتے ہوے مستقبل کی خوشگوار زندگی کی راہیں پہلے سے ہی متعین کرتاہے ۔لیکن گذشتہ تین دہائیوں سے یہی شعبہ حالات کی بھینٹ چڑھ گیا اور کہیں کا نہیں رہا تھاچنانچہ اب اس میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں ۔جب سے قومی تعلیمی پالیسی کا اطلاق عمل میں لایا گیا تب سے اس میں نئی جان پڑ گئی ہے ۔سرکاری تعلیمی اداروں کا پورا سیٹ اپ تبدیل ہوگیا ہے اور اب یہ سکول پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ہم پلہ بن گئے ہیں ۔اب زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلہ دلوانا چاہتے ہیں ۔تعلیمی ماحول میں کافی بہتری آئی ہے اور بقول ایل جی جموں کشمیر میں درس و تدریس کا عمل بلاخلل جاری ہے ۔ایل جی نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے شعبے میں تبدیلی کے لئے حکومت کی کوششوں میں اپنا بھر پور تعاون دیں کیونکہ وقت آگیا ہے کہ تعلیم سب کے لئے قابل رسائی اور سستی ہو تاکہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کو اس سے فایدہ پہنچ سکے اور تعلیم کا شعبہ صحیح معنوں میں ترقی کی منزلیں طے کرتا رہے ۔










