جموں کشمیر میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لئے سرکاری سطح پر جہاں اقدامات جاری ہیں وہیں دوسری طرف اب نوجوان بھی کھیلوں کی طرف متوجہ ہورہے ہیں اور بے جا گھپ بازی ،بیہودگیوں اور فضول خرچیوں سے بچ جاتے ہیں ۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کھیل کے میدانوں میں نوجوان دن بھر کھیلوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ان نوجوانوں کو اگر مناسب کوچنگ دی جاے گی اور ان کے ٹیلنٹ کو پہچان کر ان کو آگے بڑھنے کی راہیں متعین کی جائینگی تو کوئی وجہ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ کشمیری نوجوان قومی سطح پر کھیلے جانے والے ٹورنامنٹوں میں شامل ہونگے ۔یہ بات سب کشمیریوں کے لئے باعث فخر ہے کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اتھلیٹ قومی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلوں میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے ہیں اور کوئی نہ کوئی میڈل لے کر واپس لوٹتے ہیں لیکن جہاں تک بڑے کھیل مقابلوں کا تعلق ہے تو ابھی تک کوئی کشمیری نمایاں طور پر چھا نہیں سکا ہے بلکہ دو ایک گیمز میں کارکردگی دکھانے کے بعد کشمیری کھلاڑی نظر ہی نہیں آتے ہیں ۔سال 2019کے بعد انتظامیہ کی طرف سے کھیلوں کو بڑھاوا دینے کی جانب خوب توجہ دی جانے لگی ہے ۔نچلی سطح پر ہی اتھیلیٹس تیار کئے جارہے ہیں جن کے بارے میں اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ قومی سطح کے مقابلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان کی بروقت اور مناسب کوچنگ اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔اب دوسرے درجے پر کرکٹ ،ہاکی اور فٹ بال کی طرف بھی زیادہ سے زیادہ توجہ دینے سے کشمیری نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ۔ہمارے ہاں اس کے لئے یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس نام کا ایک باضابطہ ادارہ قایم ہے اور اس حوالے سے اس ادارے پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے ۔زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو قومی مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے تیار کرنا ہوگا تاکہ آگے چل کر کشمیری نوجوان بھی نام کماسکیں اور نہ صرف پورا ملک بلکہ پوری دنیا یہ جان سکے کہ کشمیری کھلاڑیوں میں صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ۔اس وقت متعلقہ محکمہ اگرچہ ہر سطح پر کشمیری ٹیلنٹ کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن اس میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے ۔اس ٹیلنٹ ہنٹ کے لئے شہر کے علاوہ ضلع ہیڈکوارٹروں پر ٹورنامنٹس شروع کئے جانے چاہئے جہاں ماہر کوچ اور دوسرے کھیل ماہرین لڑکوں کو کھیلتے ہوئے دیکھیگے اور ان ہی میں ان کو باصلاحیت کھلاڑی بھی نظر آینگے ۔اس طرح ان کو بڑے بڑے ٹورنامنٹس میں کھیلنے اور اپنی صلاحیتوں کا بھر پورہ مظاہرہ کرنے کا موقعہ مل سکتاہے ۔ادھر کھیلو انڈیا کے تحت سرمائی کھیلوں کا آغاز ہونے جارہا ہے ۔جن میں زیادہ تر کھیل برف پر ہی کھیلے جاتے ہیں ان کھیلوں میں بھی کشمیری لڑکوں اور لڑکیوں کو بھی بھر پورہ حصہ لینے کا موقعہ فراہم کیا جاے تاکہ ان میں احساس کمتری کسی بھی طور پیدا نہ ہونے پائے اور وہ ہر کھیل میں اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرسکیں۔










