لیفٹننٹ گورنر نے جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کئی منصوبوں کو منظوری دی ہے ۔لیفٹننٹ گورنر کی صدارت میں منعقدہ وایلڈ لایف بورڈ کی میٹنگ میں جنگلی حیات کو تحفظ دینے سے متعلق کئی اہم فیصلے لئے گئے ۔میٹنگ میں بھرپور حیاتیاتی تنوع کے پائیدار انتظام اور جنگلی حیات کی رہایش گاہوں کی مربوط ترقی کے لئے مختلف کلیدی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں جنگلی حیات کے ماحولیاتی نظام کو مزید مظبوط بنانے کے لئے کی جانے والی کاروائیوں پر غور کیا گیا۔منوج سنہا نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوے جنگلی جانوروں کو تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ ایکو نظام کی بہتری کے لئے جنگلی حیات کس طرح اپنا رول نبھارہے ہیں۔اور اس کی کتنی اہمیت ہے ۔ہمارے ہاں ماحول میں کثافت کا جو عمل دخل ہے وہ یہ جانور کس طرح کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر اس کا پتہ چل جائے تو لوگ جنگلی حیات کی اہمیت سے واقف ہوجاتے لیکن چونکہ ابھی تک لوگ پرانے قصے کہانیوں میں سنائی گئی باتوں پر یقین کرتے ہیں نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اب بھی جنگلی حیات کو وحشی سمجھ کر ان کو مرنے مارنے میں یقین رکھتے ہیں جبکہ جنگلی حیات کی بھی اپنی اہمیت و حقیقت سب پر واضع ہونی چاہئے تاکہ لوگوں میں ان کے خلاف پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔جنگلی حیات ہمارے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور ماحول کو کثافت سے پاک رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اس لئے سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو کیسے تحفظ فراہم کریں ۔عام لوگوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جوں جوں جنگل کم ہوتے جائینگے یعنی سرسبز درختوں کا صفایا کیا جاے گا جنگلی حیات عام لوگوں کے لئے خطرناک بنتے جائینگے یعنی جب جنگل نہیں رہینگے تو بھوک ان کو ستائے گی اور وہ کھانے پینے کی تلاش مین نزدیکی بستیوں کا رخ کرتے ہیں ۔آج تک جنگلی جانوروں نے بہت سے بچوں کو اپنا نوالہ بنالیا ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ جنگل جنگلی حیات کی قدرتی پناہ گاہ ہے اور ان کو سب کچھ جنگل میں بھی ملتاہے لیکن جب انسانی مداخلت یا یوں کہیے کی لالچ غالب آگئی تو سر سبز درختوں کا صفایا کیا جانے لگا ۔یہ بات سب جانتے ہین کہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران جس قدر جنگلوں کو ملیا میٹ کیا گیااس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا تھا نتیجے کے طور پر جنگلی جانور وں کے قدرتی مسکن مسمار کردئے گئے ۔چنانچہ بھوک و پیاس کے مارے جب جنگلی جانور بستیوں کا رخ کرنے لگے تو وہ کسی نہ کسی انسان کو ہی اپنا نوالہ بناتے رہے ۔اس کے بعد یہ تجویز پیش کی جانے لگی کہ جنگلوں کے ارد گرد باڑھ لگائی جاے لیکن ایسا بھی نہیں کیا گیا ۔اگر جنگلوں کے ارد گرد باڑھ یعنی کانٹے دار تار لگادی جاتی اس سے ایک تو جنگل سمگلروں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملتی اس کے علاوہ جنگلی جانوروں کے لئے انسانی بستیوں میں گھسنا ناممکن بن جاتا ۔اسلئے موجودہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کی خاطر ماہرین کی طرف سے اس بارے میں پیش کی جانے والی تجاویز پر غور کرے تاکہ جنگلوں کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاسکے ۔










