محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی صحیح ثابت ہوئی جمعہ کی شام سے جو بارشیں شروع ہوئیں وہ کل یعنی 23اکتوبر سنیچر کو بھی جاری رہیں اس دوران کئی مقامات پر برفباری بھی ہوئی اور پسیاں بھی گرنے سے روز مرہ کی زندگی پوری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ۔اگرچہ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پہلے سے ہی پیشن گوئی کی تھی لیکن اس قدر موسم کی قہر سامانیاں ہونگی اس کا کسی کو یقین ہی نہیں تھا ۔مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کروڑوں روپے مالیت کا میوہ اور دوسری فصلوں کے ساتھ ساتھ میوے کے درختوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے ۔اس کے ساتھ ہی ترال میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی کنبے کے تین افراد زندہ دفن ہوکر چل بسے جس سے اس غریب کنبے پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔سرینگر جموں شاہراہ پر مختلف مقامات پر پسیاں اور چٹانیں گرنے سے سڑک ناقابل آمد و رفت بن گئی ۔کپوارہ ٹنگڈار روڈ پر شدید برفباری کے نتیجے میں اسے ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا اسی طرح بانڈی پور گریز روڈ بھی پہلے ہی آمد و رفت کے لئے بند کردیا گیا جبکہ جنوبی کشمیر میں جہاں موسم کی قہر سامانیوں نے قیامت بپا کی میں تقریباًتقریباًتمام راستے بند پڑے ہیں ۔بہت سے مکانوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور بہت سے ڈھانچے گرگئے ہیں ۔شہر سرینگر میں بھی بیشتر سڑکیں جھیلوں کے مناظر پیش کررہی ہیں جن پر آوا جاہی مشکل ہورہی ہے ۔ڈرینیج سسٹم ناکارہ ہوکر لوگوں کے لئے مزید مصایب و مشکلات لے کر آیا ہے ۔جنوبی اور شمالی کشمیر میں مواصلاتی نظام میں بھی خلل پڑ اہے ۔مختصراًپورا نظام زندگی متاثر ہوکر رہ گیا ہے ۔اگرچہ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے تناظر میں ماہرین زراعت و باغبانی نے کسانوں ،زمینداروں اور فروٹ گروورس کو اپنی فصلیں بچانے کے لئے مفید مشورے بھی دئے تھے اور بہت سے علاقوں میں لوگوں نے فصلوں اور میوہ کو درختوں سے اتار کر سمیٹنے کی کوشش بھی کی لیکن موسم نے ان کو پھر بھی نہیں بخشا ۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ سینکڑوں میوہ دار درخت گر گئے ہیں یا ان کی ٹہنیاں کٹ کر الگ ہوگئی ہیں جن سے ان کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ماہرین نے اسلئے فروٹ گروورس کو جلدی جلدی میوہ اور خاص طور پر سیب اتارنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ درخت میوہ کے بوجھ کی وجہ سے گرنہ جائیں لیکن پھر بھی اتنی برفباری اور بارشیں ہوئیں کہ درخت پوری طرح گرگئے کئی مقامات پر درخت دو پھاڑ ہوکر رہ گئے ایسا منظر عام طور پر موسم سرما میں اس وقت دیکھنے کو ملتاتھا جب زبردست برفباری ہوتی ہے اور اوپر سے درجہ حرارت منفی سے بھی نیچے گرتا ہے لیکن اس بار اکتوبر میں ہی موسم نے ایسا بھیانک رخ دکھایا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی ۔جو بھی نشیبی علاقے ہیں ان میں اس قدر پانی بھر آیا کہ بہت سے مکان اور دوسرے ڈھانچوں میں پانی گھس آیا ۔عبور و مرور مشکل ہوگیا ۔اب اس وقت انتظامیہ کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ راحت پہنچائی جاسکے ۔










