اس سے قبل ان ہی کالموں میں بجلی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہی دلائی جاتی رہی کہ بجلی کے اعلان شدہ شیڈول پر عمل نہ کرنے اور بجلی کی فراہمی میں خلل سے لوگوں کو کس قدر مشکلات و مسائیل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کیونکہ بجلی کب آے گی اور کب گُل ہوجاے گی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔کیونکہ جب اعلان شدہ شیڈول کو بالائے طاق رکھا گیا تو پھر بجلی کی فراہمی کا یہی حال ہوسکتاہے جو اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے اس سے نہ صرف گھریلو سطح پر مسایل بڑھتے جارہے ہیں بلکہ عام کاروباری حالات پر بھی بُرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔اس دوران صوبائی کمشنر نے پہلی مرتبہ بجلی کے موجودہ بحران پر کھل کر بیان دیا اور کہا کہ بجلی کی فراہمی میں خلل یعنی موجودہ بجلی بحران سے پیدا شدہ صورتحال اور اس سے عام لوگوں کو ہو نے والی پریشانیوں سے حکومت بخوبی واقف ہے اور اس کا حل بہت جلد نکالا جاے گا۔انہوں نے کہا کہ کٹوتی میں اضافہ ناگزیر حالات کی بنا پر کرنا پڑا کیونکہ بجلی کی پیداوار اور اس کی کھپت میں خلیج بڑھتی جارہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بقول ان کے سردیوں میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی بجلی کا استعمال بڑھ گیا ہے جس پر قابو پانے میں کچھ وقت لگ سکتاہے اس دوران لوگوں کو جو دکھ درد اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ ایک عارضی عمل ہے کیونکہ حکومت اس سارے معاملے کو گہرائی سے دیکھ رہی ہے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ڈویثرنل کمشنر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر بجلی کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال میں مثبت تبدیلی آنے والی ہے اور اس کے بعد لوگوں کو کوئی شکایت نہیں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر اور چیف سیکریٹری نے اضافی بجلی خرید نے کیلئے ایک پینل تشکیل دی ہے جو سارے معاملے کا جائیزہ لے کر بجلی کی فراہمی کے حوالے سے بہت جلد حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی اور ان سفارشات کی روشنی میں ہی اگلا قدم اٹھایا جاسکتاہے ۔ڈیویثرنل کمشنر نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پہلے اعلان کردہ بجلی کے شیڈیول پر عمل نہیںکیا جارہا ہے ۔کیونکہ وادی میں سردیوں کے ابتدائی ایام کی وجہ سے بجلی کی طلب اچانک بڑھ گئی ہے ۔جس کے نتیجے میں حکومت نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کے منظر نامے میں بہتری لائی جاے گی جس کی توقع کی جارہی ہے ۔انہوں نے یہ بات پھر دہرائی ہے کہ لیفٹننٹ گورنر نے بجلی کے حوالے سے جو اطمینان بخش اقدامات اٹھائے ہیں ان کے نتایج جلد برآمد ہونگے ۔اب عوامی حلقوں نے ڈویثرنل کمشنر کے اس اعلان کو باعث راحت قرار دیا جس میں انہوں نے یقین دلایا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر بجلی کی صورتحال میں بہتری آے گی یعنی بجلی کے پہلے سے اعلان شدہ کٹوتی کے پروگرام پر نہ صرف بھر پور انداز میں عمل کی جاے گی بلکہ مزید بجلی لائی جاے گی تاکہ وادی میں رہنے والے لوگوں کو سرمائی ایام کے دوران کوئی مشکل پیش نہ آسکے اور طلبہ طالبات کے علاوہ کاروباری افراد روزمرہ کا کام کاج اچھی طرح سے انجام دے سکیں اور مریضوں کو بھی بجلی کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔










