اخبارات میں یہ خبر شہ سرخیوں میں شایع ہوئی ہے کہ جموں کشمیر اور خاص طور پر وادی میں بیروزگاری کا گراف بڑھتا جارہا ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں ڈاکٹر ،انجنئیر اور پی ایچ ڈی سکالروں کے علاوہ مختلف شعبوں میں ڈگریاں اور ڈپلومہ حاصل کرنے والے گھروں میں بیٹھے ہوے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی کام کاج نہیں کیونکہ بقول ان کے حکومت ان کی قابلیت اور ذہانت سے استفادہ کرنے کے بجاے کنٹریکچلول طریقے پر تقرریاں عمل میں لاکر اپنا پلو چھڑانے کی کوشش کررہی ہے اور اسی کو نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنے کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ یہ تقرریاں صرف چھ ماہ یا ایک سال کے لئے ہوتی ہیں ۔جن امیدواروں کی تقرری عمل میں لائی جاتی ہے ان کو تحریری طور پر اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ معیاد ختم ہونے کے بعد امیدوار مستقل نوکری کے لئے عدلیہ سے کسی بھی حالت میں رجو ع نہیں کرینگے۔جبکہ مستقل بنیادوں پر نوکریاں فراہم کرنے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے ۔تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ عارضی بنیادوں پر جن امیدواروں کی تقرریاں عمل میں لائی جارہی ہے وہ بھی پریشان حال رہتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صرف ایک مختصر مدت تک کے لئے نوکری فراہم کی گئی ہے اس کے بعد وہی بیکاری ہے ۔ہر گذرتے برس اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی فوج مختلف اداروں سے نکلتی ہے لیکن ان کے لئے نوکریاں ندارد ۔اس طرح وہ ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہوکروالدین کے لئے بھی پریشانیوں کا باعث بن جاتے ہیں کیونکہ والدین اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لئے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگاتے ہیں اور جمع شدہ پونجی بچے پر لٹاتے ہیں لیکن ان کو کیا معلوم اتنا پڑھ لکھ کر وہ دوبارہ ان ہی پر بوجھ بن جاے گا۔تعجب تو اس بات کا ہے کہ لاکھوں روپے مختلف ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود جب ایک نوجوان کو نوکری نہیں ملے گی اور اسے حصول روزگار کے لئے در در ٹھوکریں کھانا پڑینگی تو اس کی حالت کیا ہوگی؟ یہ پرانی کہاوت ہے کہ بے کار کا دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے اسلئے نوجوانوں کے اذہان کو شیطانی خیالات سے بچانے کے لئے ان کو روزگار کی فراہمی کے لئے حکومت کو خصوصی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے ۔وادی کشمیر جیسے پہاڑی خطے میں چونکہ صنعتوں کا پھیلاﺅ زیادہ نہیں اور ایسی بڑی بڑی کمپنیاں یا فیکٹریاں نہیں جہاں زیادہ سے زیادہ بیروزگار نوجوانوں کو ایڈجسٹ کیا جاسکے اسلئے لے دے کے صرف سرکاری نوکری ہی رہ گئی ہے جو بیروزگار نوجوانوں کے لئے راحت کا سامان بن سکتی ہے اسلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ وادی میں جس قدر بھی ممکن ہوسکے تعلیم اور تربیت یافتہ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں فراہم کرے تاکہ کشمیری تعلیم یافتہ نوجوانوں میں روزگار کے حوالے سے جو خدشات پائے جاتے ہیں ان کا ازالہ ہوسکے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں مختلف محکموں میں ہزاروں خالی اسامیاں پڑی ہیں جن کو ابھی تک پُر نہیں کیا جاسکا ہے اسلئے ان کو اسی صورت میں پورا کیا جاسکے گا جب بیروزگار نوجوانوں کو ان پر ایڈجسٹ کیا جاے ۔










