اس بات سے سب لوگ اتفاق کرینگے کہ سرما اپنے ساتھ ڈھیر سارے مسایل و مشکلات لاتا ہے اور اس سیزن میں بیماریاں بھی بڑھ جاتی ہیں ۔اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور موسم کی وجہ سے بھی لوگ طرح طرح کی مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔غرض سرما اور پریشانیاں لازم ملزوم ہیں ۔لیکن اس دوران امید کی ایک کِرن نظر آئی جب چیف سیکریٹری کی ہدایت پر 25اکتوبر سے عوامی درباروں کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے ۔ہم جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پرانے زمانے میں لوگوں کے مسایل و مشکلات پر غور کرنے کیلئے بادشاہ خصوصی دربار بلاتے تھے جہاں رعایا کے مسایل پر غور کرنے کے بعد ان کو حل کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کئے جاتے تھے ۔بالکل اسی طرز پر آج بھی حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کیا جاسکے یعنی افسر ہی مخصوص مقامات پر پہنچ کر لوگوں کے مسایل سے آشنائی حاصل کرنے کے بعد ان کے حل کی تجویز پیش کرینگے۔چیف سیکریٹری 30اکتوبر کو سرینگر میں عوامی دربار سجائینگے جہاں وہ لوگوں کے مسایل سے جانکاری حاصل کرنے کے بعد ان مسایل و مشکلات کو حل کرنے کے لئے لوگوں کو اعتماد میں لینگے اور لوگوں کو بتایا جاے گا کہ ان مسایل کا حل کس طرح حکومت نکال سکتی ہے اور دربار میں موجود لوگوں کو بتایا جاے گا کہ ان کے جو مسایل و مشکلات ہیں ان کا کس طرح اور کس حالت میںحل نکالا جاسکتاہے ۔اسی دن کان کنی کے سیکریٹری سرحدی ضلع کپوارہ میں اور تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں 25 اکتوبر کو عوامی دربار سجائینگے ۔پہلے پہل لوگوں کو اپنے مسایل و مشکلات سے حکام کو آگاہ کرنے لئے دور دراز علاقوں سے سرینگر کے سیکریٹریٹ آکر افسروں سے ملاقات کرنا پڑتی تھی کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا تھا کہ افسر کئی کئی دنوں تک سیکریٹریٹ کا رخ نہیں کرتے تھے اس طرح گاﺅں سے آنے والے لوگوں کا نہ صرف پیسہ ضایع ہوتاتھا بلکہ ان کو انصاف بھی نہیں ملتاتھا لیکن اب ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف ملنے لگا ہے اب افسر ہی لوگوں کے پاس جاکر ان کے مسایل حل کرتے ہیں یعنی کنواں ہی پیاسے کے پاس آتا ہے اور پیاسے کو کنوئیں کے سامنے نہیں جانا پڑتا ہے ۔موجودہ انتظامیہ کے اس طرز عمل سے لوگوں کو کافی آسانیاں ملنے لگی ہیں ۔اب وہ آسانی سے اپنے ہی علاقوں میں افسروں سے ملاقات کرسکتے ہیں اور ان کو اپنے مسایل سے آگاہ کرسکتے ہیں ۔اس بارے میں مختلف علاقوں کے معززین نے بتایا کہ ان کو راحت ملنے لگی ہے کیونکہ بیک ٹو ولیج اور اب عوامی درباروں کے سجانے سے واقعی لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف ملنے لگا ہے ۔پیسے کی بھی بچت اور وقت کا بھی ضیاں نہیں ۔اسلئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں عوامی درباروں کا حصہ بنیں اور اپنے جائیز مسایل و مشکلات کے بارے میں حکام کو آگاہ کریں تاکہ ان کا جلد از جلد حل تلاش کیا جاسکے ۔










