میلاد النبی کی تقریب سعید کے سلسلے میں تیاریاں کی جارہی ہیں ۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ میلاد کے سلسلے میں ہونے والی مختلف تقریبات کے احسن طریقے پر انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچ سکے اور وہ اچھی طرح سے مذہبی عقاید کے تحت عبادت کرسکیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ میلاد البنی کے سلسلے میں سب سے بڑی تقر یب درگاہ حضرتبل میں منعقد ہوتی ہے اور وہاں اس وقت جبکہ ایام مقدسہ چل رہے ہیں ہر نماز کے موقعے ہزاروں عقیدت مند درگاہ حضرتبل میں حاضری دے کر اپنے دینی فریضے کی ادائیگی انجام میں دے رہے ہیں ۔اس موقعے پر وہاں بجلی پانی ،صحت و صفائی کی طرف خاص توجہ دی جانی چاہئے ۔ایک طرف جہاں حکومت اس تقریب کے انعقاد کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں مصروف نظر آرہی ہے تو دوسری طرف وقف بورڈ بھی درگاہ حضرتبل میں زائیرین کی سہولیات کے کام کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔لیکن جو کام اندر ہورہا ہے اسے فوری طور پر پورا کیا جانا چاہئے ۔یعنی بجلی کی فٹنگ ہو ۔وایٹ واش ہو یا دوسرا کوئی کام تاکہ میلاد کی تقریب میں شرکت کے خواہشمند عقیدت مندوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچ سکے ۔اس سلسلے میں ڈویثرنل کمشنر نے گذشتہ دنوں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوے کہا کہ میلاد النبی کی تقریبات کے انعقاد کیلئے تمام تر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح انتطامیہ نے دونوں عیدین پر خاطر خواہ انتظامات کئے تھے بس اسی طرح عیدمیلادالنبیٰ پر بھی عقیدت مندوں کے لئے خاطر خواہ اور معقول انتظامات کئے جاینگے اور ان کو انتظامیہ کی طرف سے معقول سہولیات بہم پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاے گی۔ڈویثرنل کمشنر نے کہا کہ ہیلتھ ،صفائی ،گلی کوچوں اور سڑکوں پر سٹریٹ لائیٹس کی مناسب تنصیب وغیرہ کو ترجیح دی جاے گی اور سب سے اہم بات انہوں نے کہا کہ زائیرین کو مختلف مقامات سے درگاہ حضرتبل تک لانے اور ان کو واپس لیجانے کے لئے ٹرانسپورٹ کے معقول انتظامات ہونگے اس بار سمارٹ سٹی پر وجیکٹ کے تحت جتنی گاڑیاں یہاں پہنچائی گئی ہیں ان سب کو استعمال کیا جاے گاتاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ میلاد تقریبات میں حصہ لے سکیں ۔لیکن گذشتہ دنوں سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ درگاہ حضرتبل سے نوہٹہ یا شیراز چوک تک ابھی بھی ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔جس وجہ سے اس سڑک پر اکثر و بیشتر ٹریفک جام ہوجاتا ہے اور لوگ مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔جن میں زیادہ سے زیادہ بچے ،خواتین اور عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہوتے ہیں ٹریفک جامنگ سے ان کی حالت بُری ہوجاتی ہے ۔اس سے قبل ان ہی کالموں میں اس اہم شاہراہ پر گاڑیوں کی بے ہنگم پارکنگ ،اوور ٹیکنگ اور موٹر سائیکل سواروں کی طرف سے کرتب بازیوں کے مظاہرے نے عام لوگوں اور خاص طور عقیدت مندوں کو کافی مشکلات میں ڈالدیا ہے ۔اسلئے محکمہ ٹریفک کو فوری طور اسطرح ٹریفک کا بندوبست کرنا چائیے تاکہ کبھی بھی زایرین اور دوسرے لوگوں کو اس روٹ پر سفر کے دوران کوئی مشکل پیش نہ آسکے اور عقیدت مند خاص طور پر اطمینان کے ساتھ دینی فریضہ ادا کرسکیں۔











