اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امیر ہو یا غریب کوئی بھی مکان بنانے یا اس کی تجدید و مرمت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہے کیونکہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔جس کی طرف حکومت نے آج تک توجہ نہیں دی ہے ۔خاص طور پر اینٹوں کی قیمتیں تو آسمان کو چھورہی ہیں ۔ایسا بھی نہیں ہوسکتا کہ جس قیمت پر آج سے دس برس قبل اینٹیں بکتی تھیں اسی قیمت پر آج بھی فروخت ہونی چاہئے لیکن جتنا اضافہ ان کی قیمتوں میں کیا گیا وہ اب ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے ۔اینٹیں فروخت کرنے والے بھی منافع کمانے کے لئے یہ کاروبار کرتے ہیں لیکن جب منافع جائیز طریقے سے کمایا جاے تب تک ٹھیک ہے لیکن حد سے زیادہ منافع کمانا کسی بھی صورت میں مناسب یا درست نہیں کیونکہ کہا جارہا ہے کہ اینٹ بٹھ مالکان حد سے زیادہ منافع کماتے ہیں ۔اگر حکومت اس میں مداخلت کرتی اور اینٹوں کی مناسب قیمتیں مقرر کی جاتیں تو ہر وہ شخص مکان وغیرہ تعمیر کر سکتا ہے جس کو اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔اسی طرح ریت ،سیمنٹ ،لوہا ،مٹی ،باجری ،لکڑی وغیرہ کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے ۔اس سے کاریگر بھی پریشان اور وہ لوگ بھی پریشان جو مکان وغیرہ تعمیر کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔باہر سے جو کاریگر یا مزدور یہاں کام کرنے کیلئے آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سال تعمیراتی کام بہت کم ہے کیونکہ تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے نتیجے کے طور پر لوگ مکانوں کی تعمیر اور تجدید و مرمت کا کام التوا میں رکھنے لگے ہیں ۔اس کے ساتھ ان اشیاءکی ٹرانسپورٹیشن بھی حد سے زیادہ ہے ۔یعنی تعمیراتی میٹریل جاے وقوع تک پہنچانے کے لئے بہت زیادہ چارجز ادا کرنا پڑتے ہیں ۔ٹھیکیدار طبقہ بھی پریشان حال ہے ۔ان کی روزی روٹی بھی اسی سے چلتی ہے ۔آرکیٹکٹ حضرات بھی اس صورتحال سے مشکلات میں مبتلا ہیں کیونکہ جب تعمیراتی کام ٹھپ ہو تو ان کو کون پوچھے گا ۔عوامی حلقے سرکار سے بار بار مطالبہ کرچکے ہیں کہ تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافے کے عمل کو روکنے کے لئے موثر اور مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔یہاں ایک بات پھر سے دہرانے کی ضرورت ہے کہ مناسب منافع تو جائیز ہے لیکن حد سے زیادہ منافع کمانے کے عمل پر فوری روک لگائی جانی چاہئے ۔اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رحجان زور پکڑتا جارہا ہے ۔ساگ سبزیوں سے لے کر جوتے کپڑے تک اتنے مہنگے ہوگئے ہیں کہ اب دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔اس وقت صرف کھانے پینے کی چیزوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک مجبوری ہے ۔گذشتہ دنوں وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ اگلے مہینے سے ساگ سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں کمی ہوگی ۔اب اس اگلے مہینے کا انتظار کرنا ہوگا تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ آیا واقعی ان کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے یا نہیں ۔










