وادی کے معروف صدر ہسپتال ایس ایم ایچ ایس اور کاٹھی دروازے میں واقع نفسانی ہسپتال کی انتظامیہ نے ان افواہوں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا جن میں بتایا گیا تھا کہ متذکرہ بالا دونوں ہسپتالوں میں جو ڈرگ ڈی ایڈکشن سنٹرز قایم کئے گئے تھے وہ بند کردئے گئے ہیں ۔دونوں ہسپتالوں کی انتظامیہ نے ان خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا اور کہا کہ دونوں سنٹر کام کررہے ہیں اور کسی شعبے کو بند نہیں کیا گیا ہے ۔عام لوگوں میں ان ہسپتالوں میں ڈرگ ڈی ایڈکشن سنٹروں کے قیام کا ہمیشہ سے خیر مقدم کیا جاتا رہا کیونکہ ان شعبوں کے قیام سے منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں سے یہ لت چھڑوالی جاتی ہے اور وہ روبہ صحت ہونے لگتے ہیں ۔موجودہ صورتحال کے پیش نظر وادی کے دوسرے ہسپتالوں میںبھی ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز کا قیام انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ایسے نوجوان صحت یاب ہوسکیں جو کسی بھی طرح کے نشے کی لت میں مبتلا ہوں ۔کچھ عرصہ قبل پولیس ہسپتال میں بھی اس طرح کا مرکز قایم کیا گیا تھا ۔جیسا کہ ان ہی کالموں میں بار بار اس بات کا تذکرہ کیا جاچکا ہے کہ وادی میں نشہ آور اشیاءکا حصول اب آسان ہوتا جارہا ہے یعنی جس کسی کے پاس پیسے ہوتے ہیں وہ آسانی سے نشہ آور اشیاءحاصل کرسکتا ہے ۔یہ بات عام لوگ بتارہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈرگ سمگلروں کی سرگرمیاں بڑھنے لگی ہیں ۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے ایجنٹ تعلیمی اداروں کے باہر ٹافیوں کے ریپرس میں نشہ آور اشیاءفروخت کرتے ہین جبکہ بظاہر جو کوئی بھی ایسے لوگوں کو دیکھے گا تو وہ یہی سمجھ جاے گا کہ یہ شخص بچوں کو ٹافیاں فروخت کررہا ہوتا ہے جبکہ اصل حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ۔جہاں تک اس سارے معاملے میں پولیس کا جو رول ہے وہ باعث اطمینان ہے کیونکہ پولیس بہت پہلے سے ڈرگ سمگلروں کے پیچھے پڑی ہوئی تھی اور اس وقت بھی ہے ۔جس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ پولیس ٹیلی مانس سہولیات جموں کشمیر میں اور بالعموم وادی میں بالخصوص نشیلی اشیاءکی لت میں مبتلا اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لئے سہولیات فراہم کرنے میں بہترین رول ادا کررہا ہے ۔یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اب تک تقریباً23ہزار فون کالز ٹیلی مانس کے ذریعے ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز کو موصول ہوئی ہیں جن کے ذریعے نشے کی لت میں مبتلا لوگ اپنی اپنی پریشانیوں اور دوسری بیماریوں کے بارے میں جانکاری دیتے ہیں جن کا معروف ڈاکٹر علاج کرکے ان کو شفایاب ہونے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ٹیلی مانس طریقہ کار کے ذریعے ان سینکڑوں نوجوانوں کی زندگیون کو برباد ہونے سے بچایا گیا جو منشیات وغیرہ کی لت میں مبتلا تھے اور اگر ان کو بھر وقت علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتئیں اور جن کی کونسلنگ نہیں ہوتی تو ان نوجوانوں کی زندگیاں تباہ و برباد ہوچکی ہوتیں لیکن اب ان کی دنیا بدل چکی ہے یہ لوگ اب آرام سے اپنا کام کاج کررہے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی یہ لوگ ایک مثال بن گئے ہیں اسلئے ان والدین کو چاہئے جن کے بچے یا بچہ اس طرح کی عادتوں میں مبتلا ہیں کو فوری طور ٹیلی مانس سہولیات کا فایدہ اٹھا کر اپنے بچوں یا بچے کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچائیں۔










