کئی ماہ قبل دودھ کے عالمی دن پرسرکاری طور پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ جموں کشمیر میں دودھ کی پیداوار بڑھانے اور اسکی مارکیٹنگ کے لئے از سرنو اقدامات اٹھائیں جاینگے ۔اس دن یہ بھی کہا گیا کہ جموں کشمیر دودھ کی پیداوار اور کھپت میں خود کفالت کی طرف گامزن ہے ۔تاہم جب دودھ سیکٹر کی طرف تھوڑا سابھی دھیان دیتے ہیں تو یہ معلوم کرنے میں دیر نہیں لگتی ہے کہ وادی میں غیر منظم دودھ سیکٹر کو منظم اور اسے ایک مثبت سمت دینے کے لئے سرکاری سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں اس میں اب تک سدھار نہیں لایا جاسکاہے ۔دودھ سیکٹر کے بارے میں جو سرکاری اعداد و شمار ظاہر کئے جارہے ہین اور جن کا انکشاف ایک مقامی خبر رساں ایجنسی ٹی ای این نے کیا ہے کے مطابق جنوری کے اختتام تک 2513.72میٹرک ٹن دودھ کی پیداوار ممکن ہوسکی ہے ۔جو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور جس کو دیکھتے ہوے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ہم خود کفالت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔سرکاری طور پر وادی میں 4286ڈیئر ی فارم منظور کئے گئے ہیں جس سے توقع ہے کہ مستقبل قریب میں دودھ کی پیداوار اور اسکی مارکیٹنگ کو منظم سیکٹر کے تحت لایا جاسکتا ہے ۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ وادی میں 95فی صد دودھ غیر منظم سیکٹر کے تحت انفرادی سطح سے اوپر نہیں لایا جاسکا ہے یعنی اب تک اس سیکٹر کو ایک منظم اور ربط و ضبط کے دائیرے میں نہیں لایا جاسکا ہے ۔گذشتہ سرما میں لیفٹننٹ گورنر نے ندرو کو منظم سیکٹر میں لانے کی پہل کی ہے کہ ندرو کے کاشتکاروں کی ایک کواپریٹو سوسائیٹی تشکیل دی ہے جس سے ندرو کے کاشتکاروں کو مالی فایدہ بھی پہنچ سکتا ہے اور اس کے علاوہ اس کی خرید و فروخت میں ایک ربط و ضبط پیدا ہوگا لیکن دودھ جیسی اہم چیز کو ابھی تک منظم سیکٹر میں تبدیل نہیں کیاجاسکاہے ۔دودھ اب بھی گذشتہ پچاس ساٹھ سال کی طرح روائیتی طریقے پر ہی فروخت کیا جارہا ہے اگرچہ مارکیٹ میں لفافہ بند دودھ بھی دستیاب ہے لیکن یہ مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا ہے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کشمیری عوام اب بھی اس طرح دودھ کی خرید و فروخت سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر پائے ہیں ۔وادی میں دودھ کی ہوم ڈیلوری کے مقابلے میں لفافہ بند دودھ فروخت کرنے والے یونٹ ہولڈرز کا کہنا ہے کہ اگر سارے غیر منظم سیکٹر کو ایک جگہ جمع کرکے بڑے پیمانے پر اس کو منظم سیکٹر کے تحت لایا جاے گا تو اس کے فواید بہت زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔یونٹ ہولڈرز کی ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ غیر منظم سیکٹر میں حفظان صحت کی جانچ سرکار کے لئے ناممکن ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لفافہ بند دودھ کی جانچ پڑتال کا ایک میکنزم پہلے سے ہی موجود ہے اور اسکی کسی بھی جگہ جانچ پڑتال کی جاسکتی ہے ۔ادھر سرکار نے نوجوانوں کو ڈئیری فارم قایم کرنے کی جو ترغیب دی ہے اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اس کی پیداوار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن جب تک اسے منظم سیکٹر میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے تب تک اس کی جانچ پڑتال ناممکن ہے اور اس سے ڈیری فارم قایم کرنے والوں کو بھی زیادہ منافع نہیں مل سکتاہے ۔









