تقریباً ساٹھ دنوں تک چلنے والی امرناتھ یاترا کا باضابطہ کل سے آغاز ہوا ہے اور اس سال نہ صرف سیکورٹی کے حوالے سے فقید المثال انتظامات کئے گئے ہیں بلکہ یاتریوں کو راحت پہنچانے کے لئے سول انتظامیہ نے بھی موثر اور معقول انتظامات کئے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی دوسرے انتظامات میں بھی کشمیری عوام نے جو رول ادا کیا ہے اور کررہے ہیں وہ ناقابل فراموش ہے اس کا اظہار کل یہاں فوج کے اعلی حکام نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے ۔بریگیڈیر امر دیپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ فوج کشمیری بھائیوں کی شکر گذار ہے جنہوں نے یاترا کی کامیابی کے لئے ہر قدم پر فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ سول ایڈمنسٹریشن کوبھر پور انداز میں تعاون پیش کیا ہے ۔سرینگر جموں شاہراہ پر یاتریوں کو لے جانے والی گاڑیوں کی مناسب نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لئے پولیس نے جو ایڈوائیزری جاری کی ہے اگرچہ وہ ایک مستحسن قدم ہے لیکن پھر بھی اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتاہے ۔کیونکہ بہت سے ایسے لوگوں کو اس بارے میں کچھ اتہ پتہ نہیں تھا جو سرینگر جموں شاہراہ پر سفر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے چنانچہ کل بہت سی گاڑیوں کو مختلف مقامات پر روکا گیا اور ان میں سے بیشترگاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔اسلئے یہ لازم ہے کہ پولیس کی ٹریفک ایڈوائیزری کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جانی چاہئے تاکہ شاہراہ پر سفر کے خواہشمند افراد اسی حساب سے اپنا پروگرام تشکیل دیں سکیں ۔جموں سے روانگی اور امرناتھ گھپاتک یاتریوں کے لئے بے مثال انتظامات کئے گئے ہیں ۔سیکوریٹی انتظامات کو چھوڑ کر جہاں تک صحت کا تعلق ہے تو ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی بڑی تعداد گھپا تک تعینات کی گئی ہے ۔راستے میں جو عارضی میڈیکل یونٹ قایم کئے گئے ہیں وہاں اور تو اور آکسیجن تک کا انتظام کیا گیا ہے اور یاتریوں کو صلاح دی گئی کہ وہ کسی بھی صحت سے جڑے مسلئے سے ان ڈاکٹروں کے ساتھ رابطہ قایم کریں جنہیں امرناتھ گھپا کے راستے پر جگہ جگہ تعینات کیا گیا ہے ۔پہلگام کے علاوہ بال تل میں بڑے بیس ہسپتال قایم کئے گئے ہیں جہاں بہت سے بیڈ اور دوسری ایمرجنسی سہولیات بہم رکھی گئی ہیں۔اب یاتریوں پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گھپا تک کی سڑک کو صاف ستھرا رکھنے میں انتظامیہ کو مکمل تعاون دیں ۔جہاں مخصوص مقامات ہونگے وہیں پر کوڑا کرکٹ ڈالا جاے ۔اور جن مقامات پر بیت الخلا بناے گئے ہیں ان ہی مقامات پر ان کا استعمال کریں ۔ماحول کو کثافت سے بچانے کی کوشش کی جاے ۔اس کے علاوہ یاتریوں کو چاہئے کہ وہ سرکاری قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہوں اس سے ان کی یاترا سہل ہوگی اور انہین کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی ہے ۔یہ یاترا ابھی 62دنوں تک چلنے والی ہے اسلئے یاتریوں کو چاہئے کہ وہ ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے ان کے بیمار پڑنے کا اندیشہ ہو کیونکہ پہاڑی سفر میں کسی کا بیمار پڑنا بہت ہی مشکل ثابت ہوتا ہے اسلئے کھانے پینے میں بھی احتیاط برتی جانی چاہئے ۔آج موصلاتی سسٹم بھی بہت اچھا نصب کیا گیا ہے تاکہ یاتری اس سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔










