مرکزی ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ سیکریٹری منوج جوشی نے بتایا کہ شہر سرینگر کو سمارٹ سٹی مشن کے تحت نئی شکل دی جارہی ہے جس سے شہر سرینگر اور زیادہ خوبصورت اور جاذب نظر بن جاے گا جس سے نہ صرف شہر میں رہنے والے لوگوں کے دل خوش ہونگے بلکہ سیاحو ں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں شہر سرینگر میں آکر مسرور ہوسکتے ہیں اور اس سے کاروبار میں بھی وسعت پیدا ہوسکتی ہے ۔سمارٹ سٹی مشن کے تحت کل 125پروجیکٹوں پر ایک ہزار کروڑ سے زیادہ خرچ ہورہے ہین ۔جن میں ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ ،سائیکل لین ،نکاسی آب کا نظام اور پارکنگ سلاٹ بنائے جارہے ہیں جن کی تکمیل کے بعد شہر سرینگر ایک نئے رنگ میں نظر آے گا۔واقعی سمارٹ سٹی پروجیکٹ کی بنا پر شہر کو ایک ایسا نیا روپ ملے گا جو واقعی قابل دید ہوسکتا ہے لیکن عام لوگوں کا کہنا ہے کہ سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت ابتدائی ایام میں جس تیز رفتاری سے کام ہورہا تھا وہ اب دیکھنے میں نہیں آرہا ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر شہر کے بالائی علاقے جس میں لال چوک ،بڈشاہ چوک ،ریذیڈنسی روڈ ،ریگل چوک ،مولانا آزاد روڈ وغیر ہ شامل ہین میں شروع کئے گئے کام پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جانے چاہئے اور کام کی رفتار مین تیزی لائی جانی چاہئے تاکہ موسم خزان سے قبل ہی یہ پروجیکٹ اختتام کو پہنچ سکےں ۔کیونکہ سرمائی ایام مین تعمیراتی کام مکمل کرنے میں خراب موسم رکاوٹ بن سکتاہے ۔دوسری جانب عوامی حلقوں کا اسرار ہے کہ جس طرح سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر کے بالائی علاقوں کو جاذب نظر بنایا جارہا ہے اسی طرح شہر کے دوسرے علاقوں کو بھی سجانے سنوارنے کی از حد ضرورت ہے ۔کیونکہ جب شہر سرینگر کو دہلی کا دل کہا جارہا ہے تو اس میں پورے شہر کا احاطہ ہوتا ہے اسلئے شہر کے دوسرے علاقوں کو بھی جاذب نظر بنانے کے لئے کام شروع کیا جاناچاہئے ادھر عوامی حلقوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شہر کے تاریخی اور سب سے بڑے قبرستان ملہ کھا ہ کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے اور جس کی ذمہ داری وقف بورڈ پر عاید ہوتی ہے ۔پورے ملہ کھاہ میں کہیں بھی نہ تو بیت الخلا ہے اور نہ ہی پینے کے پانی کی سہولیات میسر ہیں یہاں روزانہ اور خاص طور پر جمعہ کو اجتماعی فاتحہ خوانیوں کے سلسلے میں لوگوں کا رش رہتا ہے لیکن نہ تو ان کو پانی میسر ہوتا ہے اور نہ ہی ملہ کھاہ میں بیت الخلا ہیں اسلئے یہاں ان دو نوں کا انتظام ناگزیر بنتا جارہا ہے اس کے علاوہ ملہ کھاہ اور اس کے گرد و نواح میں گندگی اور غلاضت ڈالنے پر پابندی عاید کی جانی چاہئے ۔پولیس سٹیشن کے قریب جہاں سے رعناواری ہسپتال تک راستہ جاتا ہے وہاں پورے علاقے کی گندگی اور کوڑا کرکٹ ڈالا جاتا ہے جس پر سینکڑوں کی تعداد میں کتے موجود رہتے ہین اس طرح ایک تو یہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے دوسری بات وہاں پیدل چلنے والوں کو زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں رہتی ہے کیونکہ کوڑے کرکٹ پر بے شمار کتے موجود رہتے ہیں ۔نزدیک ہی بچوں کا مڈل سکول ہے اور گندگی سے ان کی صحت بگڑنے کا احتمال ہے اسلئے میونسپل حکام کو چاہئے کہ وہ کسی اور جگہ کوڑ ا کرکٹ ڈالنے کا انتظام کریں۔










