جموں کشمیر کے سرکاری اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کےلئے ایل جی انتظامیہ کی جانب سے جو اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں وہ قابل سراہنا ہے تاہم اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی اور بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ہو۔ ایل جی انتظامیہ نے پہلے ہی اس بات کااعلان کیا ہے کہ انتظامیہ میں کسی قسم کی بدعنوانیوں کو برداشت نہیں کیاجاے گا اور اس کے علاوہ جو افسر یا ملازمین کام چور ،نکمے ،کاہل طبع ہونگے اور سرکاری کام کاج میں کوتاہی برتنے کے مرتکب پائے جاینگے ان کو قبل از وقت جبری طور پر ریٹائیر کیا جاے گا۔ان کو ڈیڈ وڈ کا نام دیا گیا ہے ۔جہاں ایل جی انتظامیہ کے فلاحی اقدامات کا تعلق ہے تو ان کی سراہنا کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی عام لوگوں کے ذہنوں میں ابھر رہا ہے کہ جس کسی افسر یا ملازم کو قبل از وقت جبری طور ریٹائیر کیا جاے گا اور اس پر مختلف نوعیت کے الزامات عاید کئے جاتے ہیں اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا بھر پور موقعہ دیا جانا چاہئے تاکہ بعد میں اسے یہ کہنے کا موقعہ نہ مل سکے کہ اس کو بلاوجہ نکال دیا گیا یا اس کیخلاف ایسی تادیبی کاروائی کی گئی جو بقول ملزم غلط معلومات یا اطلاعات پر مبنی تھی۔اسلئے ایل جی انتظامیہ کو چاہئے کہ ایسے ملازمین یا افسر جن کو کسی بھی قانونی کاروائی کی زد میں لاکر اس کے خلاف اقدامات کئے جاینگے اسے اپنی صفائی پیش کرنے سے روکا نہیں جانا چاہئے ۔بہر حال اس کاروائی نے ایسے ملازمین کو خوفزدہ کردیا ہوگا جو بدعنوانیوں اور رشوت ستانی جیسے معاملات میں ملوث ہونگے اور جن کے خلاف حکومت کو کاروائی کا حق بنتا ہے لیکن یہاں ایک بار پھر حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کی ضرورت ہے کہ جس کسی کے خلاف کاروائی کی جاےگی اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا بھر پور موقعہ دیا جانا چاہئے ۔دریں اثنا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت ایسے ملازمین کے خلاف بھی کاروائی کا ارادہ رکھتی ہے جنہوں نے جعلی احکامات پر ملازمتیں حاصل کرلی ہیں۔میڈیا حلقوں میں یہ اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ حکومت نے دس پندرہ برس قبل سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے والے ملازمین کے احکامات کی ویری فیکشن شروع کی ہے ۔یہ سب کا م ایمانداری ،غیر جانبداری اور دیانتداری سے کیا جانا چاہئے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوسکے اور سب کو ہر معاملے میں انصاف فراہم کیاجاسکے ۔











