گذشتہ دنوں لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے سیمپورہ پانپور میں ایک ہزار بستروں والے پرائیویٹ ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا ہے ۔اور اسی دن انہوں نے ڈیڑھ سو نشستوں والے میڈیکل کالج کا بھی سنگ بنیاد رکھا ہے ۔اس طرح کے طبی مراکز کی وادی کو سخت ضرورت تھی کیونکہ یہاں طبی سہولیات کا کسی حد تک فقدان محسوس کیا جارہا ہے ۔یہاں پرائیویٹ سطح پر بے شک بہت سے طبی ادارے قایم کئے گئے ہیں جن میں نہ تو ڈاکٹروں کی کمی ہے اور نہ ہی انفراسٹرکچر کی کوئی کمی ہے لیکن عام لوگوں کیلئے ان ہسپتالوں کا رخ کرنا کارے دارد والا معاملہ ہے کیونکہ پرائیویٹ کلنکوں اور ہسپتالوں میں بیماروں سے جو چارجز لئے جاتے ہیں وہ ناقابل یقین ہیں ۔بہر حال اس موقعے پر لیفٹنٹ گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ پرائیویٹ سطح پر لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے نجی ہسپتالوں کا قیام بھی انتہائی ضروری ہے جبکہ وادی میں پرائیویٹ میڈیکل کالج کا قیام بھی ان طلبہ کے لئے باعث مسرت ہوگا جو طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہونگے۔جموں کشمیر میں پہلے صرف ایک ہی میڈیکل کالج تھا اور وہ 60کی دہائی میںقایم کیا گیا تھا اس کے کئی برسوں بعد جموں میں بھی ایک سرکاری میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا گیا ۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جموں میں پرائیویٹ میڈیکل کالج بنایا گیا جہاں اس وقت کافی تعداد میں طلبہ اور طالبات زیر تربیت ہیں ۔وادی میں اس دوران بہت سے پرائیویٹ کلنک اور ہسپتال قایم کئے گئے ہیں۔بہت سے لوگ طبی سہولیات کے لئے پرائیویٹ ہسپتالوں ،کلنکوں کا رخ کرتے ہیں لیکن ایک بات جو بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ایک عام آدمی کے لئے پرائیویٹ سطح پر علاج کروانا کافی مہنگا ثابت ہورہا ہے بہر حال یہ بیمار کی استطاعت پر منحصر ہے کہ وہ کہاں علاج کروانا پسند کرتا ہے ۔جہاں اسے تسلی مل جاتی ہے وہ وہیں اپنا علاج کرواتا ہے خواہ اسے کتنا ہی خرچ کیوں نہ کرنا پڑے۔لیکن اب لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ لیفٹننٹ گورنر کی طرف سے پرائیویٹ ہسپتال قایم کرنے کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں ان کے مثبت نتایج برآمد ہونگے اور پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلنکوں پر مریضوں سے زیادہ فیس وغیرہ ادا نہیں کرنا پڑے گا اور انہیں مناسب اور معقول فیس دے ان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں لیکن اس مقصد کے لئے منوج سنہا کو کچھ سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر یکساں فیس مقرر کیاجاے گاتو اس سے لوگوں پر اخراجات کے حوالے سے زیادہ بوجھ نہیں پڑ سکتاہے ۔کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں جتنے بھی پرائیویٹ ہسپتال ہیں وہاں مریضوں سے الگ الگ فیس وصول کی جاتی ہے اسلئے اس سسٹم کو ختم کرنے کے لئے یکساں فیس مقرر کی جانی چاہئے جس سے عوام کو زیادہ سے زیادہ فایدہ پہنچ سکے اور انہیں فیس بھی زیادہ ادا نہ کرنا پڑے ۔اس کے علاوہ لوگوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم ہوسکیں۔











