عید الفطر کے بعد جرایم کے حوالے سے کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جو قابل مذمت قرار دئے جاسکتے ہیں کیونکہ اس طرح کے واقعات سے کشمیری سماج پر بدنامی کا جو ٹھپہ لگاہے وہ آسانی کے ساتھ مٹ نہیں سکتا ہے ۔لیکن پولیس نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مہارت کا بھر پور مظاہرہ کرکے ان جرایم میں ملوث افراد کو فوری طور پکڑ کر ان کے خلاف کاروائی شروع کردی۔پولیس کے اس اقدام کی جہاں ہر طرف سراہنا کی جارہی ہے لیکن اس بات کے خدشات محسوس کئے جارہے ہیں کہ کہیں جرایم کا سلسلہ دراز نہ ہوجاے جن افراد کو گرفتار کیا گیا ان کیخلاف اس طرح کیس مرتب کئے جائیں تاکہ ان کو کڑی سزا مل سکے ۔پولیس نے عید کے بعد جن جرایم کے ارتکاب کرنے والوں کو پکڑا ان میں ہندوارہ میں جسم فروشی کا دھندا چلانے والے بھی شامل بتائے گئے جبکہ پولیس چھاپے کے وقت سیکس ورکر اور دو گاہکوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی۔عید گاہ سرینگر میں ایک نوجوان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں ملوث تین نوجوانوں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا گیا ۔نگین میں تیز رفتاری سے موٹر سائیکل چلانے اور اس دوران ایک عمر رسیدہ خاتون کو کچل ڈالنے والے تینوں اوباش قسم کے نوجوان جو جاے واردات سے بھاگ گئے تھے کو بھی پولیس نے پکڑ کر ان کو حوالات میں بند کردیا۔اسی طرح غیر قانونی طور پر مائیننگ میں ملوث چھ افراد کی بھی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔عید پر اور عید کے بعد جرایم میں ملوث افراد کے خلاف پولیس نے جو مہم چلا کر جرایم پیشہ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی اس پر پولیس کی سراہنا کی جارہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پولیس پر لازم ہے کہ وہ کسی دباﺅ میں آے بغیر ان کے خلاف اس طرح کیس مرتب کرے جس سے ان کو قرار واقعی عدالت سے ایسی سزا مل سکے جس سے ہر ایک عبرت حاصل کرسکے اور کوئی بھی اس طرح کے جرایم کے ارتکاب کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے ۔ہندوارہ میں پولیس نے جسم فروشی کے جس اڈے کا پردہ فاش کیا ہے وہ اپنی نوعیت کا تیسرا اڈہ ہے جو خفیہ طور پر چلایا جارہا تھا اور جہاںلڑکیوں کو لاکر ان کو روپے پیسے کا لالچ دے کر انہیں اس غلیظ دھندے میں پھنسایا جاتا تھا ۔جو لوگ یہ دھندا چلا رہے تھے ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے اور سب سے پہلے ان کی جائیدادیں ضبط کرکے ان کو سرکاری تحویل میں دی جانی چاہئے کیونکہ یہ لوگ کشمیری قوم کو تباہ کرنے اور بدنام کرنے میں ملوث ہیں ۔اسی طرح دوسرے جرایم کا ارتکاب کرنے والے بھی سخت سزا کے مستحق ہین ۔سماج کو جرایم سے پاک کرنے کے لئے عام لوگوں کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور شر پسند عناصر چور اچکوں اور غنڈہ گردی کرنے والوں اور خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو پکڑ نے میں عام لوگ اہم رول ادا کرسکتے ہیں ان کی نشاندہی کرکے انہیں پولیس کے حوالے کرنے کے لئے لوگوں کو آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئے تاکہ سماج کو گندہ کرنے والوں کا پوری طرح قلع قمع ہوسکے ۔











