وادی کشمیر جو امن و سلامتی کا گہوارہ تھی جہاں کے باشندے چاقو اُٹھانے سے بھی ڈرتے تھے آج اس وادی گلپوش میں جرائم کی ایسی وارداتیں رونماءہورہی ہیں کہ روح کانپ اُٹھتی ہے ۔ ڈانگر پورہ سوپور اور کھرہامہ کپوارہ میں ایک ہی دن میں قتل کے ایسے دو واقعات رونما ہوئے جس نے اہل وادی کو ہلادیا ہے ۔ جہاں ڈانگرپورہ میں نشے کے عادی بیٹے نے بے دردی سے اپنی70سالہ بزرگ ماں کا گلادبا کر قتل کردیا،وہیں زب کھرہامہ میں کچھ گھنٹوں تک لپتہ رہنے والی ایک 7سالہ بچی کی گلا کٹی ہوئی نعش گھر کے نزدیک ایک شیڈ سے برآمد ہوئی ۔متعلقہ پولیس تھانوںنے دونوں نعشوںکاپوسٹ مارٹم کرایا،اور طبی وقانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد بزرگ خاتون اور معصوم بچی کی نعشوںکو آخری رسومات کی انجام دہی کیلئے لواحقین کے سپردکردیا گیا جبکہ متعلقہ پولیس تھانوںنے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمے درج کرکے بڑے پیمانے پر دونوں خطرناک واقعات کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی ہے ۔سوپور پولیس نے مبینہ طور پراپنی ماںکو سفاکانہ طور پرموت کی نیندسلادینے والے بے رحم بیٹے کوگرفتار کرلیاہے ۔علاقے کے لوگوں بشمول، سماجی کارکنوں و رشتہ داروں نے بتایاکہ سنگین جرم کامرتکب ملزم گزشتہ15 سال سے نشے کی لت میں مبتلاءتھا ۔انہوںنے کہاکہ کئی مرتبہ اس کوپولیس کے سپردکیاگیا لیکن وہ رہائی پاتاگیا لیکن نشے کی لت سے آزاد نہیں ہوسکا۔انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہ وہ ایسے ملزمان کو عوام کے سامنے لٹکائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش نہ آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری وادی میں منشیات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے ضروری اقدامات کیے جائیں۔پولیس نے تو اپنا کام کرتی رہے گی لیکن عام لوگوں کے لئے خاص کو ذی حس طبقہ کےلئے یہ معاملات تذبذب کے موجب ہیں کیوں کہ جس طرح سے وادی میں جرائم کی وارداتیں سامنے آرہی ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دو رنہیں جب یوپی اور ممبئی دہلی جیسی وارداتیں یہاں پر رونما نہ ہوں ۔ اگر ہم ملکی سطح کی بات کریں تو اُترپردیش میں کرائم ریٹ سب سے اُوپر ہے اور جموں کشمیر سب سے نیچے تھا لیکن اب جموں کشمیر میں جرائم کا گراف بڑھتا جارہا ہے جو عوام کےلئے نیندیں اڑادینے والی خبر ہے ۔ وادی میں جرائم کے پیچھے منشیات کے عادی افراد کا ہاتھ مانا جاتا ہے کیوں کہ منشیات کے عادی افراد اپنی لت کو پورا کرنے کےلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں جیسا کہ ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح سے منشیات کے عادی افراد اپنے ہی گھر کے کنبوں کےلئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں ۔ آج بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے ایک بیٹے نے اپنی ماں کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا۔ اتناہی نہیں آج سوشل میڈیا پر ایک باپ پولیس اور انتظامیہ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا دیکھا گیاجو کہتا تھا کہ میرے بیٹے کو عمر بھر کےلئے جیل میں بند کردو اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ گھر میں کسی کا خون بھی کرسکتا ہے ۔ اس لئے اس معاملے کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ایسی وارداتیں رونما ءنہ ہوں اس طرح توجہ دینی چاہئے اس کےلئے سماج کے ہر طبقہ کو آگے آکر اقدامات اُٹھانے ہوں گے ۔











