سکاسٹ کشمیر کا دائیرہ اب وسیع ہوتا جارہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر طلبہ کو اس یونیورسٹی میں داخلہ دینے کا عمل شروع کیا جارہا ہے جو ایک خوش آیند قدم قرار دیا جارہا ہے ۔اس بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یو نیورسٹی میں باہر سے آنے والے طلبہ اور طالبات کے لئے پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ کے پروگرام شروع کئے جارہے ہیں اور اس طرح سکاسٹ ملک کی ان چند اگریکلچر یونیورسٹیوں میں ایک ہے جو بین الاقوام سطح پر اپنا دائیرہ کار وسیع کرنے والی ہیں ۔اس سلسلے میں ایک معلوماتی بروشر بھی جاری کیا گیا ہے ۔اس بارے میں یونیورسٹی کے وایس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی کی طرفسے کشمیر کو تعلیم کا مرکز بنانے کی کوششیں برابر جاری ہیں۔انہوں نے کہا یونیورسٹی نہ صرف طلبہ کو یہاں لانے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لئے کام کررہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کو باہر کے اعلیٰ اداروں میں بھیجنے کی طرف بھی کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی سطح پر جانا چاہتے ہیں اور ایک ایسا ماحولیاتی نظام بنانا چاہتے ہیں جہاں بھارت کی ہر یونیورسٹی ہماری پیروی کرنے کی کوشش کرے ۔جہاں تک سکاسٹ کا تعلق ہے جب سے اس کا وجود عمل میں لایا گیا ہے تب سے آج تک اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اس نے ایسے ایسے زرعی تجربے کئے جن کی مدد سے ہمارے یہاں زرعی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔اس کے ساتھ ہی اس نے اعلیٰ پایہ کے زرعی ماہرین کو پیدا کیا جس کے نتیجے میں آج ہمارے پاس زرعی ماہرین کی کوئی کمی نہیں ہے چونکہ زراعت کے الگ الگ شعبے ہیں اس یونیورسٹی سے فارغ البال ہونے والے ماہرین اپنی بھر پور صلاحیتوں ،قابلیت اور ذہانت کا مظاہرہ کرکے نئے نئے تجربے کرنے لگے ہیں اور اپنی قابلیت کا لوہا منوانے لگے ہیں ۔یونیورسٹی کے وایس چانسلر نے اس بات کا اعلان کیا کہ سکاسٹ ملک کی اعلیٰ چھ یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جہاں زرعی شعبے کو بڑھاوا دینے کے لئے اعلیٰ زرعی ماہرین تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد باہر نکلتے ہیں ۔سکاسٹ کے وایس چانسلر نے گذشتہ دنوں ایک اہم بات بتائی ہے انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول پایا جاتا ہے جو کہ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر طلبہ کے لئے موافق ثابت ہوگا۔سکاسٹ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے غیر ملکی طلبہ کے لئے فواید کا ذکر کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ کشمیری معاشرہ چونکہ جرایم سے پاک ہے ۔اس لئے یہاں باہر سے آنے والے طلبہ یا طالبات کو حصول تعلیم میں کسی بھی طرح کی مشکلات یا پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں ایڈونچر ٹوارزم ،ایگری ایکو ٹوارزم ،سرمائی کھیلوں کے لئے کافی گنجایش ہے اس لئے باہر یعنی ملک سے باہر کے رہنے والے طلبہ خوشگوار ماحول میں زرعی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکاسٹ نیشنل ایجو کیشن پالیسی نافذ کرنے والی پہلی ایگریکلچر یونیورسٹی ہے ۔غرض یہ یونیورسٹی ہر لحاظ سے ایک اعلیٰ درجہ رکھتی ہے اسلئے ہمارے طلبہ اور والدین کو اس جانب توجہ دینی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو اسی یونیورسٹی مین حصول تعلیم کے لئے بھیج دیں۔سماج کو صرف ڈاکٹروں اور انجنیروں کی ضرورت نہیں بلکہ ایگرکلچرسٹ بھی ہمارے سماج میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس کے علاوہ اس شعبے میں آگے بڑھنے اور آمدن حاصل کرنے کے لئے کافی مواقع ہیں جن سے ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بھر پور فایدہ اٹھانا چاہئے ۔










