ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ اب تک 9سوکلومیٹر سڑکوں پر میگڈم بچھایا گیا اور یہ عمل برابر جاری ہے کیونکہ مزید کئی سو کلو میٹر سڑکوں کو میگڈم بچھانے کے دائیرے میں لایا جارہا ہے لیکن دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے بعد میگڈم بچھانے کا کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے کیونکہ میگڈم بچھانے کے لئے جس درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ اکتوبر کے بعد نہیں ہوتا ہے نتیجے کے طور پر بقول ان کے اس کے بعد میگڈم اچھی طرح سے سڑکوں پر نہیں چپک جاتا ہے ۔اب ماہرین کا کہنا کہاں تک سچ ہے اس بارے میں ایک عام آدمی کچھ نہیں کہہ سکتا ہے صرف سرکاری طور پر ہی اس کا جواب دیا جاسکتا ہے کہ ماہرین کا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے بہر حال محکمہ آر اینڈ بی کے سربراہ نے یہ بات واضع کردی ہے کہ ہر سال تقریباً دو ہزار کلو میٹر سڑکوں پر میگڈم بچھایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اس سال اب تک تقریباً نو سو کلو میٹر لمبی سڑکوں پر میگڈم بچھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سال 1485کلومیٹر لمبی سڑکوں پر میگڈم بچھانے کا ہدف مقرر کیا گیاتھا اب تقریباًساڑھے چار سو کلومیٹر سڑکوں پر میگڈم بچھانا باقی ہے ۔لیکن دوسری جانب جیسا کہ اوپر اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ اور جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے بعد درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے سڑکوں پرمیگڈم بچھانے کا بقول ان کے کوئی مطلب نہیں رہتا ہے ۔دریں اثر محکمہ آر اینڈ بی کے چیف انجنئیر نے بتایا کہ ہر پانچ برسوں بعد میگڈم بچھایا جاتا ہے اور ان پانچ برسوں میں سڑکوں کی تجدید و مرمت کی ذمہ داری ٹھیکدار کی ہوتی ہے ۔اس وقت اکثر سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ محکمہ آر اینڈ بی نے سڑک پر میگڈم بچھایا لیکن سال دو سال یا اسی سال جس برس میگڈم ڈالا جاتا ہے ایک اور محکمہ سڑکوں کی کھدائی کرتا ہے بعد میں کام مکمل ہونے کے بعد یہ محکمہ مٹی ڈال کر ایسے غائب ہوجاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔اس کی مثال بہوری کدل سے نوہٹہ براستہ پاندان جانے والی سڑک سے بخوبی دی جاسکتی ہے اس کے علاوہ لال بازار میں عمر کالونی یعنی جی ڈی گوینکا سکول کے بالکل سامنے ملہ باغ جانے والی سڑک پر کئی برس قبل میگڈم بچھایا گیا لیکن دوسرے ہی سال کسی محکمے نے سڑک پر کھدائی کی تین برس گذر گئے سڑک ابھی تک خستہ حالت میں ہے۔چیف انجنئیر کو شاید معلوم نہ ہو کہ جس جس محکمے نے میگڈم بچھانے کے بعد سڑکوں کا ستیاناس کرکے رکھ دیا اس محکمے نے کبھی بھی سڑکوں کی مرمت نہیں کی ہے ۔اب یہ ساری ذمہ داری محکمہ آر اینڈ بی کی ہے کہ وہ دیکھے کہ کہاں کہاں اور کتنے کلو میٹر سڑکیں مرمت طلب ہیں جن کا متعلقہ محکموں نے محکمہ آر اینڈ بی کو کوئی اطلاع نہیں دی ہے ۔میگڈم بچھانے سے زیادہ ان سڑکوں کی تجدید و مرمت کی ضرورت ہے جن کومختلف محکموں نے کھدائی کی آڑ میں تباہ و بربادکر کے رکھ دیا ہے ۔











