گذشتہ دنوں سے موسمی قہر نے یہاں عام لوگوں کو پریشانیوں میں مبتلا کردیا ایسا لگ رہا تھا کہ چلہ کلاں دوبارہ سرگرم ہونے لگا کیونکہ لوگوں نے پھر سے گرم کپڑے پہننے شروع کئے ۔گرمی دینے والے آلات کا استعمال ہونے لگا اوراسکے ساتھ ہی کانگڑیاں بھی استعمال کی جانے لگیں کیونکہ چلہ کلاں کی طرح سردیوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا تھا۔موسمی قہر کی وجہ سے جانی نقصان بھی ہوا ہے اور مالی نقصان کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔خاص طور پر کھڑی فصلوں اور میوے کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور جنوبی اور شمالی کشمیر میں مقامی ذرایع کے مطابق ساٹھ سے ستر فی صد تک میوہ تباہ ہوگیا ہے ۔سردیوں اور برفباری سے زیادہ میوے کو شدت کی ژالہ باری سے نقصان پہنچاور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جو ویڈیو وائیرل ہوگئے ان میں صاف طور پر دکھایا گیا کہ ژالہ باری نے کس قدر میوے کو تباہ کرکے رکھدیا اور کل تک جو درخت میوے سے پُر نظر آرہے تھے ان کے پتے جڑ چکے ہیں میوہ زمین پر پڑا ہوا ہے اور بڑی بڑی شاخیں ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں جنوبی اور شمالی کشمیر میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے ۔اس سے قبل بھی ان ہی کالموں میں حکام سے فروٹ گروورس اور دوسرے کسانوں کی طرف سے اپیل کی گئی تھی کہ اس کو آفات سماوی قرار دے کر متاثرہ کسانوں اور فروٹ گروورس کو معاوضہ دیا جاے ۔اس دوران انتظامیہ نے کس طرح ان لوگوں کو بچاکر محفوظ مقامات پر پہنچادیا جو برفباری ،طوفانی آندھی اور ژالہ باری میں پھنس کر رہ گئے تھے مقامی ضلع انتظامیہ کے اہلکار وںکے علاوہ پولیس ،فوج اور مقامی نوجوانوں نے پھنسے ہوئے لوگوں جن میں سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد بھی شامل تھی کو اپنی جانیں جو کھم میں ڈال کر بچالیااور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچادیا ۔فوج نے ان کیلئے ادویات اور چائے وغیرہ کا انتظام کیا ۔اس طرح جانی نقصان ہونے کی نوبت نہیں آنے دی ۔ان اقدامات کو سراہا جارہا ہے لیکن دوسری جانب پہلگام اور پانپور میں بجلی گرنے سے جو جانی نقصان ہوا ہے اس پر افسوس کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جاسکتاہے ۔لیکن ضلع انتظامیہ کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ جب بھی خراب موسم کی پیش گوئی کی جاے گی تو ا س دوران سیاحوں یا بکروالوں کو بالائی علاقوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔اس طرح ان کے جان و مال کو بچایا جاسکتاہے ۔سرینگر جموں شاہراہ یعنی نیشنل ہائی وے نمبر 44کی حالت کا فی خراب رہی کیونکہ بہت سے مقامات پر بھاری پسیاں گرتی رہیں جس کے نتیجے میں شاہراہ پر ٹریفک بار بارمعطل رکھا گیا ۔ہائی وے پر سفر کرنے والوں اور خاص طور پر سیاحوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موسمی قہر کو آفات سماوی قرار دے کر متاثرین کی بھر پور مالی معاونت کرے تاکہ وہ دوبارہ اس قابل ہوسکیں کہ پھر سے روزگار کے حوالے سے زرومرہ کا کام کاج شروع کرسکیں۔











