اننت ناگ سے کئی کلو میٹر دور کوکر ناگ میں نالہ برنگی میں جو بڑا گڑھا رونما ہوا اور جس نے آبگیرہ کی شکل اختیار کرلی ہے کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج سے تقریباً 27برس قبل اسی طرح نالہ برنگی میں ایک بڑا گڑھا رونما ہواتھا اور نالے کا سارا پانی اس میں سمونے لگ گیا تھا تب ضلع حکام نے ماہرین کی مدد حاصل کرنے کے بعد نالے کے پانی کا رخ دوسری طرف موڑ دیا جس کے بعد نالہ آہستہ آہستہ پھر اصلی شکل پر آگیا ۔اب یہ کیامعاملہ ہے کیونکہ نالہ برنگی میں بڑاگڑھا رونما ہوا اور کس طرح اس نے آبگیرہ کی شکل اختیار کرلی ہے اس بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں جبکہ ضلع حکام نے اسے جغرافیائی عمل قرار دیا اور کہا کہ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں البتہ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اس جانب آنے کی کوشش نہ کریںکیونکہ اگر لوگ آتے رہینگے تو ماہرین کو جاے واردات تک پہنچ کر اس کا بھر پور انداز میں جائیزہ لینے مین دقت محسوس ہوگی اسلئے وہاں امتناعی احکامات صادر کئے گئے اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ہر صورت میں جاے واردات کی طرف آنے سے احتراز کریں۔ضلع حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا جاے گاتو اور لوگ جوق در جوق وہاں پہنچنا شروع کرینگے تو ماہرین کو وہاں آکر صورتحال کا جائیزہ لینے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔بہر حال سوال اب یہ پیدا ہورہا ہے کہ نالے میں اس طرح کی صورتحال کس طرح پیش آئی ؟مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تین دہائی قبل بھی اسی نالے میں اس طرح کی صورتحال پیش آئی تھی اور اگر واقعی یہ جغرافیائی عمل ہے تو نالے کا رخ مستقل طور پر دوسری طرف پھیر دیا جانا چاہئے تاکہ نالے کو ایسی حالت دوبارہ پیش نہ آسکے ۔بعض بزرگوں نے اسے انسانی لالچ سے تعبیر کرتے ہوے کہا کہ انسانوں سے قدرتی وسائیل کو تباہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ان بزرگوں نے کہا کہ انسانوں نے جنگلوں کو بھی تباہ و برباد کرکے رکھدیا اور اب آبی وسائیل کو بھی اپنی خود غرضی کے لئے تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے بڑے بڑے دریاوں ،نالوں وغیرہ میں ٹریکڑاور جے سی بی ڈالکر تباہی مچادی ۔ان نالوں کی ہیت ہی بدل کر رکھ دی اور اس عمل سے آبی حیات کا قافیہ حیات تنگ کرکے رکھ دیاگیا،مچھلیوں کے لئے رہایشی ٹھکانے نہیں رہے ۔سردی اور گرمیوںکے ایام میں مچھلیاں جس گھاس میں بسیرا کرتی تھیں اس گھاس کا اب کہیں نام و نشان تک نہیں ہے ۔مچھلیوں کے کھانے وغیرہ کے لئے گھاس پھوس میں موجود اجزا لازمی تصور کئے جاتے ہیں لیکن ٹریکٹروں اور جے سی بی کی طرف سے دریاوں کی سطح اتنی کھودی گئی کہ سب کچھ تباہ ہوکر رہ گیا ۔دریاوں اور نالوں کی سطح غیر متناسب بنتی گئی ۔کشتی رانی ممکن نہیں رہی ۔ریت نکالنے کے لئے ان قدرتی وسائیل کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اسی کا نتیجہ ہے ۔کسی نہ کسی طرح اس واردات جس کوضلع حکام جغرافیائی عمل سے تعبیر کرتے ہیں میں انسان کا ہی ہاتھ ہو اسلئے ضلع حکام کو یہ دیکھنا چاہئے اور ایسا ہوگا تو اس کی روک تھام کے لئے جو بھی اقدامات لازمی ہونگے وہ اٹھائے جانے چاہئیں۔ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ضلع حکام نے غیر قانونی طور پر دریاوں او رندی نالوں سے ریت وغیرہ نکالنے والوں کے خلاف کاروائیاں بھی کیں اس کے باوجود ریت مافیا اب بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے اسلئے حکام کو ان کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہئے ۔












