پاندریٹھن میں 5جنوری بروز اتوار جو حادثہ رونما ہوا وہ انتہائی دلدوز قرار دیا جاسکتاہے ۔والدین اپنے تین معصوم بچوں سمیت اچانک اس دنیا سے بیک وقت چل بسے ۔ابتدائی طور پر بتایاگیا کہ کمرے میں گرمی دینے والے آلے وغیرہ جلانے سے چونکہ کاربن مونوکسائیڈ پیدا ہوگیا تھا اور وہی اس معصوم کنبے کی موت کی وجہ بن گیا ۔بہر حال پولیس نے اس سلسلے میں قانونی کاروائیاں شروع کردی ہیں اور اس سارے معاملے کی گہرائی سے چھان بین کی جارہی ہے کہ اس کنبے کی موت کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ادھر پوری وادی میں یہ خبر سن کرلوگوں پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ہر آنکھ اشکبار ہوگئی اور ہر دل خون کے آنسو بہانے لگا ۔موت تو اٹل ہے لیکن اس طرح کی موت پر جتنا بھی غم کیا جاے کم ہے ۔حکومت نے اسی وقت اس بارے میں ایڈوائیزری جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ بند کمروں میں گیس ہیٹر ،گیس گیزر ،چار کول بخاری ،ہیٹر وغیرہ کا استعمال نہ کریں بلکہ شام کو سونے سے قبل گرمی پہنچانے والے تمام آلات بند کریں ۔وادی کے سرکردہ معالجین نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں بلکہ ہر طرح کی احتیاط برتیں ۔ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب بند کمرے میں گیس بخاری ،جنریٹر ،چار کول بخاری ،بلوور یا اسی طرح کا کوئی ایسا آلہ جس سے گرمی حاصل کرنے کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہو آکسیجن اپنے اندر جذب کرکے کاربن مونوکسائیڈ اور کاربن ڈائیکسائیڈ کا اخراج شروع کرتا ہے جو انسان کے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہا کہ کمرے میں مناسب وینٹی لیشن کا بھر پور انتظام ہونا چاہئے پھر بھی لازم ہے کہ سونے سے قبل ان تمام آلات کو بند کیا جاے ۔جب بند کمرے میں گرمی پہنچانے والے آلات چالو حالت میں ہونگے تو ان سے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ کاربن مونوکسائیڈ کا اخراج شروع ہوتاہے جس سے وہاں موجود افراد میں بے ہوشی سی چھاجاتی ہے ،سر میں درد شروع ہوجاتا ہے ،جسمانی کمزوری کی علامات شروع ہوجاتی ہیں سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے ،چھاتی میں درد ہو اٹھتاہے اور دماغ پریشان سا ہوجاتا ہے ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب اس طرح کی صورتحال پیدا ہوگی تو فوری طور پر ڈاکٹر سے صلاح مشورہ کرنا چاہئے بصورت دیگر یہ سب علامات جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مناسب وینٹی لیشن نہ ہونے پر کوئی بھی ایسا آلہ کمرے میں چالو حالت میں نہیں رکھنا چاہئے جو گرمی کے لئے رکھا گیا ہو ۔کیونکہ اگر مناسب وینٹی لیشن نہ ہو تو موت یقینی ہے ۔پاندرئیٹھن جہاں یہ المناک واقعہ رونما ہوا ہے کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ جس کمرے سے تین معصوم بچوں اور ان کے والدین کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں وہاں ایک بلوور بھی دیکھا گیا جبکہ پانچ لٹر والا ایسا ہینڈی گیس سلنڈر بھی موجود تھا جو گرمی دینے کے لئے غالباً کنبے نے استعمال کیا ہوگا اور اسی سے کاربن مونوکسائیڈ گیس کا اخراج ان سب کی موت کا باعث بن گیا ہو۔اسلئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ بند کمروں میں گرمی دینے والے آلات سونے سے قبل مکمل طور پر بند کریں تاکہ نیند کی حالت میں ان سے کاربن کا اخراج نہ ہو جو ہر حال میں موت کا باعث بن جاتاہے ۔










