وزیر اعظم نریندر مودی نے کل یہاں شیر کشمیر سٹیڈیم میں بھاجپا کی طرف سے بلائی گئی الیکشن ریلی سے خطاب کرتے ہوے اس عزم کو دہرایا کہ بھاجپا کا مقصد جموں کشمیر میں تیز تر ترقی کو یقینی بنانا ہے ۔اپنے اس عزم کی مودی نے اپنی تقریر میں بھر پور وضاحت کی ۔تقریر میں انہوں نے پارٹی منشور کے بارے میں کہا کہ یہاں کون کون سے فلاحی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ یہاں زندگی خوشحال بن سکے ۔انہوں نے بار بار کہا کہ ہمارا فوکس تیز تر ترقی پر ہے ۔وزیر اعظم کے اس دورے کا مقصد یہاں کے لوگوں کو بھاجپا کے پروگرام اور پالیسیوں سے آگاہ کرکے ان کو بھاجپا امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرنا تھا ۔چنانچہ بیچ تقریر کے انہوں نے سٹیج پر موجود بھاجپا امیدواروں کو کھڑا ہونے کے لئے کہا ۔خو د مودی جی ڈایس سے اتر کر ان کے بیچ آگئے اور لوگوں سے ان کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ۔وزیر اعظم کی تقریر کا محور جموں کشمیر کی ترقی رہا ہے اور انہوں نے یہاں مختلف ترقیاتی کاموں کا تذکرہ کرتے ہوے تین خاندانوں پر سنگین الزامات عاید کرتے ہوے کہا کہ انہوں نے کشمیر کو بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ ملانے کے لئے ریل connectivtyکا ایسا جال بچھا یا گیا کہ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا ۔انہوں نے سیاحت کا بار بار ذکر کرتے ہوے کہا کہ یہاں کئی کروڑ سیاح آے جس سے تیز تر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہاں نئے نئے کارخانے کھلیں گے اور نئی فیکٹریاں قایم ہونگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا جموں کشمیر کے حالات دیکھ رہی ہے اور سب کو اس بات کا بھر پور احساس ہورہا ہے کہ کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے یہاں جی 20کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔یہاں ایسی تقریبات منعقد ہوئیں جن کا اس سے پہلے تصور تک نہیں کیا جاسکتاتھا ۔اس کے علاوہ کھیلو انڈیا اور ونٹر گیمز میں حصہ لینے کے لئے دنیا کے کونے کونے سے کھلاڑی آے ۔جن کا کشمیری عوام نے دل کھول کر خیرمقدم کیا ۔یہی کشمیریت ہے جو باہیں پھیلا کر سب کو خوش آمدید کہتی ہے ۔وزیر اعظم نے گذشتہ 35برسوں کا ذکر کرکے اسے کشمیر کی تاریخ میں تاریک دور سے تعبیر کیا اور کہا کہ گذشتہ 35برسوں میں آٹھ سال تک ہڑتالیں رہیں ۔جبکہ گذشتہ پانچ برسوں میں آٹھ گھنٹے تک بھی ہڑتال نہیں ہوئی ۔پی ایم مودی نے کہا کہ نیا حبہ کدل پل ،زیرو برج ،گاندربل کا وایل برج لوگوں کی تفریح و طبع کے ذرایع ہیں ۔انہون نے کہا کہ شہر سرینگر کی سڑکوں پر سرخ گاڑیاں فراٹے بھرتی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔پولو ویو مارکیٹ چکا چک کام کررہا ہے انہوں نے کہا کہ بھاجپا کسانوں کے کھاتے ہیں ہر سال جو چھ ہزار روپے جمع کرتی تھی اب اسے دس ہزار کردیا جاے گا۔گھر کی بزرگ خاتون کو سالانہ 18000ہزار کی رقم ان کے اکاونٹ میں ڈالدی جاے گی ۔پانچ لاکھ مفت علاج کی سیکم کو اب بھاجپا سات لاکھ کردے گی ۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں مفت بجلی پی ایم سوریہ گھر شروع کی گئی ہے جس کے تحت اس سے مستفید ہونے والے ہر کنبے کو اسی ہزار کی رقم مرکز بطور سبسڈی فراہم کرے گا۔آخر پر انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر پھر سے سٹیٹ بن جاے گا اور یہ بھی کہا کہ بی جے پی جو کہتی ہے وہ کرکے دکھاتی ہے ۔










