پہلے مرحلے کی پولنگ کی تاریخ قریب آرہی ہے۔ 18ستمبر کو جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے پہلے پورے خطے میں انتخابی بخار سر چڑھ بولنے لگاہے ۔اگرچہ پہلے مرحلے کی پولنگ میں جنوبی کشمیر اور خطہ چناب کے چند انتخابی حلقے شامل ہیں جن میں ووٹ ڈالے جاینگے لیکن امیدواروں کی طرف سے انتخابی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں ۔اس حوالے سے میڈیا میں امیدواروں کی پبلسٹی خوب ہورہی ہے ۔اسمبلی چناﺅ کی تاریخ جوں جوں قریب آتی جارہی ہے انتخابی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جنوبی کشمیر میں تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈراں جن میں امیدوار بھی شامل ہیں کی طرف سے جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا جارہا ہے جبکہ آزاد امیدوار زیادہ تر انتخابی مہم کے سلسلے میں گھر گھر جاکر ووٹروں سے رابطہ قایم کرنے میں مصروف ہیں ۔اس بار نہ صرف مقامی سیاسی پارٹیاں انتخابی میدان مین سرگرم نظر آرہی ہیں بلکہ قومی سطح کی کئی سیاسی پارٹیاں بھی اس بار یہاں انتخابات میں کود پڑی ہیں ۔ان سیاسی پارٹیوں نے جن امیدواروں کو منڈیٹ دئے ہیں وہ بھی اپنی پارٹیوں کے پروگرام اور پالیسیوں کی خوب پبلسٹی کررہے ہیں ۔آج کل چونکہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اسلئے امیدوار سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کررہے ہیں اور لوگون سے روابط کے ویڈیو بناکر سوشل میڈیاپلیٹ فارموں پر ڈال کر اپنی پارٹیوں کے منشور اور پروگراموں سے ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔اس سے قبل بھی قارئین کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروائی گئی کہ جمہوری طرز نظام میں انتخابات کی خاص اہمیت ہوتی ہے ۔اور لوگوں کے قریب جانے کا انتخابات سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ہے ۔اس بار انتخابات کی خاص بات یہی ہے کہ کل تک جو پارٹیاں کسی دوسرے سیاسی نظرئیے کی حامی تھیں آج کھلم کھلا الیکشن کے میدان میں اتر کر اسمبلی میں جانے کے لئے سرگرم ہوگئی ہیں ۔ایسے علاقوں میں اب کھلے عام انتخابی جلسے اور جلوسوں کی بھر مار نظر آرہی ہے جہاں اس سے پہلے انتخابات کے بارے میں مہم چلانے کا سوچا بھی نہیں جاسکتاتھا لیکن آج ان ہی علاقوں کے لوگ انتخابی میدان میں اتر کر بھارت کے اس جمہوری عمل کا حصہ بننے کے لئے کافی سرگرم ہوگئے ہیں۔سیاسی پارٹیوں نے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے ہیں ان کو عملانے پر زور دیتے ہوئے رائے دہندگاں کو اپنی جانب مایل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔اس بار انتخابات میں آزاد امیدواروں کی اچھی خاصی تعداد بھی شامل ہوگئی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ ان میں سے بعض کو مخصوص سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ ان ہی سیاسی پارٹیوں کی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ایک بات ضرور قابل غور ہے کہ اس بار لوگوں میں انتخابات کے حوالے سے کافی جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے اور وہ اپنے من پسند امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کے لئے تیار نظر آرہے ہیں ۔یہ ایک خوش آیند اشارہ سمجھا جارہا ہے ۔الیکشن کمشن نے بھی لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ الیکشن صاف ستھرے اور شفاف طریقے پر انجام دئے جاینگے ۔سرکاری افسروں وغیرہ کو غیر جانبدار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔تاکہ ان انتخابات کی شفافیت برقرار رہ سکے اورالیکشن کمشن کی غیر جانبداری پر حرف نہ آسکے ۔









