کل یعنی سوموار 19اگست کو میڈیا میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ حکومت جموں کشمیر یہا ں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کررہی ہے اور ماہرین تعلیم کی طرف سے وقتاً فوقتاً پیش کی جانے والی تجاویز پر غور بھی کیا جارہا ہے ۔ان تجاویز میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ جموں کشمیر میں جتنے بھی سرکاری ملازمین ہیں ان کے بچوں کو لازمی طور پر سرکاری سکولوں میں داخلہ حاصل کرنا پڑے گا ۔تجویز بالکل معقول اور قابل قبول ہوسکتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد سے قبل کئی ایک باتوں کو ذہن میں رکھنا پڑے گا۔اگر اس تجویز پر عمل درآمد ہوگا تو والدین کوپرائیویٹ سکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے جو بھاری فیس ادا کرنا پڑتی ہے ان سے وہ چھٹکارا پاسکتے ہیں ۔اس کے ساتھ پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے رکھ رکھاﺅ وغیرہ پر جو رقومات طلب کی جاتی ہیں ان سے والدین بچ سکتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے لازمی ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنائی جاے ۔جہاں تک سرکاری اساتذہ کا تعلق ہے تو اس بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ اب اساتذہ کافی تعلیم یافتہ ہیں اور درس و تدریس کے عمل میں مہارت رکھتے ہیں کیونکہ ستر سے اسی فی صد تک ٹیچرز چاہئے مرد ہو یا خواتیں بی ایڈ ہیں ۔اس کورس میں اساتذہ کو جہاں پڑھنے پڑھانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں وہیں ان کو بچوں کی نفسیات کے بارے میں بھی قابل پروفیسرز سکھاتے ہیں ۔اگرچہ پرائیویٹ سکولوں میں بھی بی ایڈ ٹیچرز کی کمی نہیں لیکن سرکاری سکولوں میں نوکری حاصل کرنے کے خواہشمند امیدواروں کے لئے بی ایڈ ہونا لازمی ہوتا ہے اسلئے سرکاری سکولوں کے اساتذہ انتہائی تربیت یافتہ ہوتے ہیں اس بارے میں والدین کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں لیکن سوال صرف انفراسٹرکچر کا ہے جو سرکاری سکولوں میں کہیں نظر نہیں آتا ہے ۔اگر شہر سرینگر کی بات کرینگے تو یہاں اگرچہ ہائی اور یائیر سکینڈری سکول قدرے ڈھنگ کی بلڈنگوں میں کام کرتے ہیں لیکن جتنے بھی مڈل یا پرائمیری سکول ہیں وہ ایسی عمارتوں میں ہیں جن کے در و دیواروں کا پتہ نہیں ۔کرایہ کی عمارتوں میں چلائے جانے والے ان سکولوں کی حالت قابل رحم ہے ۔جیسا کہ پہلے ہی کہا گیا ہے کہ ٹیچنگ یا نان ٹیچنگ سٹاف اچھی طرح سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں لیکن انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ ان سکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے بھیجنے میں ہچکچاتے ہیں ۔ایک ایسی سکول عمارت جو خوبصورت ہو ۔جس کے کمرے ہوا دار اور سجے سجائے ہوں اور جسکے سامنے بڑا سا احاطہ ہو ایسے سکولوں میں بچے شوق سے جاکر پڑھتے ہیں لیکن جن سکول عمارتوں کی حالت خستہ ہو اور جہاں بنیادی ضروریات کی چیزوں کی کمی ہو ان میں بچے کسی بھی طرح پڑھنے نہیں جاسکتے ۔اسلئے جہاں یہ تجویز معقول اور مناسب ہے لیکن دوسری جانب سرکاری سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کو جب تک چست درست نہیں کیا جاے گا تب تک اس تجویز پر عمل درآمد میں مشکلات ہی پیش آسکتی ہیں اسلئے حکومت کو اگر اس تجویز کو عملانا ہی ہے تو سب سے پہلے سکول عمارتوں میں بنیادی ڈھانچے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔تاکہ بچے خوشی خوشی ان سکولوں میں تعلیم حاصل کرسکینگے اور والدین بھی بھاری بھر کم فیس ادا کرنے سے بچ جائینگے ۔تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے جب سیلبس مرتب کیا جاتا تو اس سے قبل ماہرین تعلیم کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے تاکہ سیلبس میں کوئی ایسی چیز شامل نہ کی جاسکے جو کسی خطے کے تہذیب و تمدن اور ثقافت کے برخلاف ہو بلکہ ایسے مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہو تی ہے جس سے انسانی ہمدردی ،حب الوطنی اور ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آنے کے جذبات پیدا ہوسکیں ۔










