لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ جموں کشمیر میں عنقریب اسمبلی انتخابات ہونگے ۔انہوں نے جموں میں نامہ نگاروں کی طرف سے اس حوالے سے پوچھے گئے مختلف سوالوں کے جواب میں بتایا کہ یہاں ایک تسلسل اور ترتیب سے چیزیں ہورہی ہیں ۔انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوے کہا کہ پہلے حد بندی ،پھر اسمبلی انتخابات اور اس کے بعد ریاستی درجے کی بحالی ۔انہوں نے کہا کہ 19اگست کو امرناتھ یاترا اختتام پذیر ہوگی جس کے بعد نئی دہلی میں سیکورٹی صورتحال کا بھر پور جائیزہ لینے کے بعد الیکشن کمشن کی طرف سے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان متوقع ہے ۔تاہم انہوں نے یہ بات واضع کردی کہ انتخابات کی تاریخوں کا تعین الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتاہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ چیف الیکشن کمشنرراجیو کمار کی قیادت میں الیکشن کمشن کی ٹیم نے گذشتہ دنوں حالات کا جائیزہ لینے کے لئے وادی کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں اور ان کے نمایندوں نے کمشنر کو اسمبلی انتخابات کے حوالے سے اپنی آرا ء سے آگاہ کیا۔بعد میں ان سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اخبارات کے لئے جو بیان جاری کیا گیا اس میں ان پارٹیوں نے کہا کہ ہر سیاسی پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو بتایا کہ جموں کشمیر میں انتخابات ناگریز ہیں ۔کیونکہ انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کا تصور ناممکن ہے ۔اسی دوران چیف سیکریٹری کی طرف سے متعلقہ عملے کو دونوں اسمبلی کمپلیکسوں کی صفائی ستھرائی اور آرایش و زیبایش کا حکم دیا گیا تاکہ انتخابات کے بعد اسمبلی اجلاس اچھی طرح اور صاف ستھرے ماحول میں منعقد کرائے جاسکیں ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ خفیہ اداروں کی طرف سے بتایا جارہا ہے کہ تشدد کی چھوٹی موٹی وارداتیں الیکشن عمل کو متاثر نہیں کرسکتیں ۔بلکہ حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنا ہوگا ۔ان اداروں نے بتایا کہ دہشت گرد کس طرح اور کس کے اشارے پر گھس پیٹھ کررہے ہیں اس کا پتہ چل گیا ہے اور جو کوئی جموں کشمیر میں امن و امان درہم برہم کرنے کے درپے ہوگا اسے کڑی سے کڑی سزا دی جاے گی۔پولیس سربراہ آر آر سوائین نے بھی اس جانب اشارہ دیا ہے اور کہا کہ اگرچہ پولیس اور فورسز کو اس وقت نئے نئے چلینجوں کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس پوری قوت سے ہر اس ہتھکنڈے کو ناکام بنائے گی جس کا مقصد یہاں کسی بھی طرح امن و امان میں خلل ڈالنا ہوسکتاہے ۔پولیس سربراہ نے سرحدی علاقوں کے بارے میں کہا کہ ان علاقوں میں رہایش پذیر لوگوں نے ہمیشہ پولیس اور فورسز کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ان کے ساتھ ایک ایسا رشتہ جڑ گیا ہے جسے مزید مضبوط بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں جو ولیج ڈیفنس گارڈ ہیں ان کو جدید ہتھیار فراہم کئے جائینگے اور ان کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جاے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ گارڈ قربانی کے جذبات سے سرشار اپنے فرایض خوش اسلوبی کے ساتھ نبھارہے ہیں ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف جہاں الیکشن کمشن یہاں پرامن اور صاف و شفاف انتخابات کروانے کے لئے پرُ عزم ہے تو دوسری طرف پولیس اور دیگر فورسز نے امن و امان کی برقراری کو یقینی بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرنے کا عزم صمیم کررکھا ہے ۔









