سرکاری طور پر بار بار اس بات کے دعوے کئے جارہے ہیں کہ حکومت نئے نئے مقامات کی کھوج کرکے ان کو سیاحتی نقشے میں شامل کرے گی۔لیکن اب بھی بہت سے ایسے خوبصورت ترین علاقے ہیں جنکی خوبصورتی لاجواب ہے لیکن افسوس ان کو سیاحتی نقشے پر نہیں لایا گیا ہے یا اگر ان پر حکومت کی نظریں ہیں لیکن ان کی ڈیولپمنٹ پر توجہ نہیں دی جاتی ہے نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سیاح ان خوبصورت جگہوں کو دیکھنے اور قدرت کی کاریگری کا نظارہ کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں ۔اگر ان کو ڈیولپ کیا جاتا تو اس سے نہ صرف سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوتابلکہ یہ جگہیں بیروزگاروں کے لئے روزگار کا ذریعہ بھی بن جاتیں۔کئی برس پہلے تک یہاں کے لوگوں کوبھی بنگس نامی جگہ کے بارے میں کچھ معلومات نہیں تھیں ۔لوگ نہیں جانتے تھے کہ اتنی خوبصورت چراگاہ جو دل کو موہ لیتی ہے وادی میں کہیں ہوسکتی ہے لیکن حکومت نے اس کی طرف توجہ دی اور اسے سیاحتی نقشے میں شامل کرکے وادی بنگس کے بنیادی ڈھانچے کو چُست دُرست کرنے کا عمل شروع کیا اور آج یہ جگہ وادی کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں شامل کی جارہی ہے اور وہاں نہ صرف مقامی بلکہ بیرون سیاح بھی سیر کرنے کے لئے آتے ہیں اور اس جگہ کی خوبصورتی کی یادوں کو دل اور آنکھوں میں بسا کرلے جاتے ہیں ۔اسی طرح تقریباً دو دہائیوں قبل دودھ پتھری کے بارے میں لوگوں نے کچھ نہیں سنا تھا لیکن حکومت نے اسے سیاحتی نقشے پر لاکر اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگادئے ۔آج جو بھی سیاح یہاں آتا ہے تو دودھ پتھری کی سیر کرنے کے لئے ضرورجاتا ۔مقامی لوگ تو ہزاروں کی تعداد میں اس خوبصورت جگہ کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور اس سے کتنے لوگوں کو روزگار میسر ہوتا ہے اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے ۔اب ایک معاصر روزنامے میں ایک رپورٹ شایع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا کہ وادی بنگس کا گیٹ وے درنگیاری حکومت کی نظروں سے اوجھل ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا درنگیاری کپوارہ کا ایک بڑا پہاڑی علاقہ ہے کہا جارہا ہے کہ درنگیاری کا مطلب وہ جگہ جہاں نالوں کا سنگم ہوتاہے ۔یہاں ایک بڑا نالہ ہے جو سڑک کے کنارے بہتا ہے جس کا نام درنگیاری نالہ ہے ۔یہاں بھی اونچے اونچے برفیلے پہاڑ ہیں لیکن اس کو ابھی تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔یہ علاقہ برفباری کی وجہ سے ناقابل رسائی ہے گرمیوں میں کپوارہ کے میدانی علاقوں سے چر واہے مویشی یہاں لاتے ہیں ۔اور وادی بنگس کے گھاس کے میدانوں میں قیام کرتے ہیں ۔کہا جارہا ہے کہ یہ علاقہ کافی خوبصورت ہے لیکن اسے ابھی تک سیاحتی نقشے میں نہیں لایا گیا ہے ۔اسی طرح جنوبی کشمیر کے اننت ناگ مٹن علاقے میں مغل دور کا تاریخی فوارہ ناگ چشمہ خستہ حالی کا شکار ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اس چشمے کا پانی اس قدر میٹھااور شیرین ہوتا تھا کہ یہ مقامی لوگوں کی پانی کی ضروریات کو پورا کرتا تھا لیکن اب اس کا پانی اس قدر بدبو دار ہے کہ لوگ وہاں سے چلنے سے احتراز کرنے لگے ہیں ۔کہا جارہا ہے کہ پہلگام کی گزرگاہ پر واقع سیاحتی اعتبار سے اہم اس چشمے کی بحالی اور صفائی کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر اس کو سیاحتی نقشے پر لاتی ہے اور اسے ڈیولپ کرنے کیلئے تھوڑا سا پیسہ خرچ کرے گی تو سیاحتی مقاموں میں ایک اور خوبصورت جگہ کا اضافہ ہوجاتا۔












