آج کل موسم انتہائی سخت ہے یعنی گرمی زوروں پر ہے جس سے روز مرہ کی زندگی متاثر ہوئی ہے ۔دو پہر کے بعد بازار سنسان ہوجاتے ہیں ۔درجہ حرارت میں اضافے کی جو بھی وجوہات ہوں لیکن موسم جب انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو تکلیف انسان کو ہی اٹھانا پڑتی ہے ۔بیماریاں عام ہوجاتی ہیں اور گرمی کی وجہ سے کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں ہوپاتاہے ۔درجہ حرارت میں بتدریج اضافے پر ماہرین طب یعنی ڈاکٹروں نے تشویش ظاہر کرتے ہوے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس وقت ہر صورت میں خود کو Hydrateرکھیں یعنی زیادہ سے زیادہ مقدار میں جسم میں پانی پہنچاتے رہیں کیونکہ ہر موسم اور خاص طور پر اس موسم میں dehydrationتمام بیماریوں کی جڑ ہے ۔ان ڈاکٹروں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ گرمیوں کے اس موسم کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مقدار میں پانی پیا کریں یا جوس کے ساتھ ساتھ ایسے پھل استعمال کریں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو۔ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ جب انہیں پیاس نہیں لگتی ہے تو وہ پانی کیوں پئیں ؟ لیکن لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پیاس محسوس ہو یا نہ ہو پانی جوس وغیرہ کی مناسب مقدار جسم میں داخل ہونی چاہئے ورنہ جسم میں پانی کی کمی سے بہت سی ایسی بیماریاں لگ سکتی ہیں جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں اور سب سے بڑھ کر قے دست اور اسہال ہے ۔اس کے علاوہ ٹائیفائیڈ کا بھی خطرہ لاحق رہتاہے ۔ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوتے ہیں انہیں براہ راست سورج کی روشنی سے احتراز کرنا چاہئے یعنی انہیں خاص طور پر دوپہر کے بعد سورج غروب ہونے تک باہر نکلنے میں احتیاط برتنا چاہئے کیونکہ ایسے لوگوں کو سٹروک کا زیادہ خطرہ لاحق رہتاہے ۔اسی طرح جو لوگ ذیا بطیس اور عارضہ قلب میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے لئے بھی یہی ایڈوائیزری جاری کردی گئی کہ وہ دن کو گھروں سے باہر نکلنے میں حد سے زیادہ احتیاط برتیں ۔ان ڈاکٹر صاحبان نے کہا کہ ہر عمر اور ہر جنس کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ خود کو ہائیڈریٹ رکھیں اور اگر کسی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی کا خطرہ محسوس ہوگا تو فوری طور ڈاکٹر سے رابطہ قایم کریں ۔بہر حال موجودہ انتہائی موسمی حالات کا تو ہر صورت میں مقابلہ کرنا ہی کرنا ہے ۔لیکن اگر لوگ احتیاط نہیں برتیں گے تو انہیں مختلف نوعیت کی بیماریوں کے لئے خود کو تیار رکھنا چاہئے ۔ڈاکٹروں کی طرف سے ہر ایک کے لئے یہی ایڈوائیزری جاری کردی گئی کہ گھروں سے باہر نکلتے وقت چھاتے کا استعمال کریں یا کسی کپڑے وغیرہ سے پورا سر اور گردن ڈھک دیا کریں کیونکہ اس سے سن سٹروک کے بہت کم خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔اسی موسم میں یعنی جب موسم انتہائی سخت ہو چاہئے گرمی ہو یا سردی ہارٹ اٹیک کے زیادہ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔اب حالات یہاں تک بگڑ گئے ہیں کہ ہارٹ اٹیک عمر یا جنس کا کوئی لحاظ نہیں کرتاہے بلکہ بچوں سے لے کر بڑے بھی ہارٹ اٹیک کا شکار ہوسکتا ہے ۔غرض گرمائی ایام میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔











