گذشتہ دنوں دریائے چناب پر بنائے گئے سب سے اونچے ریل پل پر ریلوے کا ٹرائیل رن ہوا ۔یہ آزمایشی دوڑ کامیاب ثابت ہوئی اور اس پر ریلوے حکام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔جس پل پر ریلوے ٹرائیل ہوا اس کے بارے میں ناردرن ریلوے کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے اونچا ریلوے پل ہے ۔یہ دریائے چناب کے اوپر 359میٹر تقریباً 109فٹ تعمیر کیا گیا ۔یہ پیرس کے ایفل ٹاور سے 35میٹر اونچا ہے ۔1315میٹر لمبا پُل ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد وادی کشمیر کو انڈین ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے قابل رسائی بنانا ہے ۔یہ پُل رام بن ضلع میں سنگلدان ریاسی کے درمیان بنایا گیا ہے ۔اور اس پر بہت جلد ریل دوڑتی ہوئی نظر آے گی ۔ یہ پل 14000کروڑ کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے اور اس کی عمر 120سال کی ہوگی ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت بارہ مولہ سے سنگلدان تک ریل چل رہی ہے اور ریلوے حکام کا دعویٰ ہے کہ ادھم پور سرینگر بارہ مولہ ریل لنک منصوبہ سال کے آخر تک مکمل ہوجاے گا۔ جس میں 48.1کلومیٹر طویل بانہال سنگلدان سیکشن شامل ہے جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے 20فروری 2024کو کیا تھا ۔پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ جس میں 118کلو میٹر طویل قاضی گنڈ بارہمولہ سیکشن کا احاطہ کیا گیا کا اکتوبر 2009میں افتتاح کیا گیا تھا

اس کے بعد کے مراحل میں جون 2013میں 18کلو میٹر طویل بانہال قاضی گنڈ سیکشن اور جولائی میں 25کلو میٹر طویل ادھم پور کٹرا سیکشن کا افتتاح کیا گیا ۔اب یہ کہا جارہا ہے کہ اس سال کے آخر تک ادھم پور سے بارہمولہ تک براہ راست ریل چلے گی کیونکہ اس میں جو اڑچن تھی وہ بھی دور کی گئی یعنی چناپ پل پر سے ریل کی آزمایشی دوڑ جو کہ کامیابی سے ہمکنار ہوگئی تھی۔اب لوگ اس دن کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں جس دن وادی کا بھارت کی دوسری ریاستوں سے براہ راست ریل کے ذریعہ رابطہ قایم ہوگا۔مرکزی ریل وزیر نے یہ بات وثوق کے ساتھ کہدی کہ اس سال کے آخر تک وادی کا ملک کے دوسرے علاقوں سے براہ راست ریلوے رابط قایم کیا جاے گا اور اس میں مزید کوئی ڈیڈ لائین مقرر نہیں کی جاے گی ۔تعجب کا مقام ہے کہ اس ریلوے لائین کو بچھانے میں تین دہائیاں لگ گئیں ۔جبکہ عام حالات میں اس طرح کے پروجیکٹ دس بارہ برسوں میں ہی تکمیل کو پہنچائے جاتے ہیں ۔لیکن یہاں اس پروجیکٹ پر تاریخ پہ تاریخ والی روایت دہرائی گئی لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ریلوے وزیر نے وادی سے اس سال کے آخر تک ملک کے باقی حصوں تک ریل سروس شروع کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اس پر عمل کیا جاے گا۔ایک بار ریلوے سروس شروع ہونے سے سرینگر جموں قومی شاہراہ نمبر 44پر ٹریفک کا دباﺅ کم ہوجاے گا اور جب بھی ضرورت محسوس ہوگی اس کی تجدید و مرمت کا کام آسانی کے ساتھ کیا جاسکتاہے کیونکہ ریل سروس شروع ہونے کے بعد لازمی طور پر سرینگر جموں شاہراہ پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد میں کمی ہوگی ۔اسلئے شمالی ریلویز کو چاہئے کہ وہ وادی اور کنیا کماری کے درمیان ریل لنک کو یقینی بنانے کے لئے اس ٹریک پر باقی ماندہ کام کو مکمل کرنے کیلئے پروجیکٹ پر سرعت سے کام جاری رکھنے کے احکامات صادر کریں تاکہ یہ لنک اس سال کے آخر تک مکمل ہوسکے اور کشمیری عوام کو سرینگر جموں شاہراہ پر سفر کے حوالے سے جن مسایل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کا خاتمہ ہوسکے ۔اب ریاسی سے صرف 17کلو میٹر ریلوے ٹریک پر کام مکمل ہوتے ہی اسے چالو کیا جاے گا۔











