حکومت ہند گزشتہ کئی برسوں سے پلگرم ٹوارزم کو بڑھاوا دینے کے لئے کوشاں ہے ۔اس کا مقصد یہی ہے کہ ہر عقیدے اور مذیب کے ماننے والے لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت و ریاضت کرکے روحانی فیض حاصل کرسکیں ۔وادی کشمیر جہاں سیاحت کا سیزن کامیابی سے جاری ہے اور حکومت زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو وادی کشمیر کی سیاحت کے لئے راغب کررہی ہے وہیں دوسری جانب حکومت کو یہاں پلگرم ٹوارزم کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ مختلف مذاہب کے ماننے والے یہاں آکر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرکے سکون حاصل کرسکیں ۔ہمارے یہاں ہر دھرم اور ہر مذہب کے ماننے والے لوگوں کے لئے عبادت گاہیں موجود ہیں ۔اور ان کی زیارت کیلئے باہر کے لوگوں کو خصوصی پیکیج دی جانی چاہئے تاکہ ایک تو یہاں کی معیشت مستحکم ہوسکے اور دوسری بات یہ ہے کہ باہر سے آنے والے لوگوں کو یہ بات محسوس ہوسکے کہ کس طرح کشمیری عوام ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے بہترین مقام ہے کیونکہ یہاں ہندو مسلمان سکھ عیسائی آپس میں بھائیوں کی طرح رہتے ہیں اور یہاں آپس میں کوئی بھید بھاو یا تناﺅ نہیں ۔یہاں جھیل ڈل کے کنارے درگاہ حضرت بل لوگوں کے لئے روحانی سکون کا مقام ہے وہیں دوسری طرف قلعہ ہاری پربت پر شاریکا دیوی کا مندر ہے۔اسی پربت کی دوسری طرف حضرت سلطان العارفین ؒکا آستانہ عالیہ ہے تو وہیں اس کے دامن میں چھٹی پادشاہی نام کا گردوارہ ہے جہاں سکھ مذہب کے ماننے والے اپنے حساب سے عبادت و ریاضت کرتے ہیں ۔جہلم کے کنارے جہاں ایک طرف حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒ کی خانقاہ پورے جاہ و جلال کے ساتھ موجودہے تو دوسری جانب بہت سے مندر بھی ہیں ۔غرض وادی کشمیر گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار دی جاسکتی ہے ۔ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کیلئے امرناتھ گھپا کے درشن کی کافی اہمیت ہے اسی طرح مسلمانوں کیلئے درگاہ حضرتبل اور دوسری زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں حاضری روحانی سکون کے حصول کا ذریعہ ہے ۔اب حکومت نے پلگرم ٹوارزم کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔اسلئے اس کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جانا چاہئے تاکہ جو لوگ خواہ وہ کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں یہاں آکر بچشم خود اس بات کا مشاہدے کرسکینگے کہ اس خطے میں کس طرح لوگ یعنی کشمیری عوام بلالحاظ مذہب و ملت ایک دوسرے کے عقیدے کی قدر کرتے ہیں اور ان کے ماننے والوں کی عزت کرتے ہیں ۔اب 29جون سے امرناتھ یاترا شروع ہورہی ہے اور عید سے پہلے ہی میلہ کھیر بھوانی کی تقریب منعقد ہورہی ہے ۔آج عرس شاہ ہمدانؒ کی تقریب سیعد تزک و احتشام سے منائی جارہی ہے ۔غرض یہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت و ریاضت کے بھر پور مواقعے دستیاب ہیں ۔اسلئے سرکار کو یہاں کی مذہبی سیاحت پر آنے والے لوگوں کے لئے کچھ مراعات کا بھی اعلان کرنا چاہئے اور یہاں کے جو لوگ بھارت کی مختلف ریاستوں میں قایم عبادت گاہوں کی زیارت کے متمنی ہونگے انہیں بھی خصوصی پیکیج کے تحت وہاں جانے کی سہولیات بہم پہنچائیں جانی چاہئے ۔











