سیاح ہمارے مہمان ہیں اور ان کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک ہی کیا جانا چاہئے ۔ہمارے یہاں سیاحوں کے خلاف صفر جرایم ہوتے ہیں یعنی سیاحوں کے خلاف کوئی بھی جرم سرزد نہیں ہوتاہے ۔بلکہ اگر سیاح کوئی قیمتی چیز آٹو ٹیکسی یا کیب میں بھول جاتے ہیں تو ڈرائیور از خود یہ چیزیں لے کر ان سیاحوں کو واپس دے کر سیاحوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر نے کا سبب بنتے ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس طرح کے ویڈیوز اپ لوڈ کئے گئے جن میں دکھایا گیا کہ کس طرح آٹو یا ٹیکسی ڈرائیور سیاحوں کو وہ قیمتی چیزیں واپس دے رہے ہیں جو سیاح سفر کے دوران بھول گئے تھے ۔غرض اپنے گھروں کو واپس جاکر یہ سیاح کشمیریوں کے بارے میں کیسی عمدہ رائے کا اظہار کرتے ہونگے ۔لیکن میڈیا میں جب یہ بات آگئی کہ بعض ٹیکسی اور کیب ڈرائیور سیاحوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں اور ان کو بیچ راستے میں گاڑیاں بدلنے پر مجبور کرتے ہیں سے کشمیریوں کی کس قدر بدنامی ہوگی اس کا تصورتک نہیں کیا جاسکتاہے ۔ڈویثرنل کمشنر نے اپنے ماتحت افسروں کو ہدایت دی کہ ایسے ڈرائیوروں کے خلاف سنگین قانونی کاروائی کی جاے جو اس طرح کی قبیح حرکت کے مرتکب ہوتے ہونگے ۔ان ڈرائیوروں کی نہ صرف گاڑیاں ضبط کی جانی چاہئے بلکہ ان کے لایسنس تک رد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے ڈرائیور عبرت حاصل کرسکیں اور وہ سیاحوں کے ساتھ اس طرح کی بیہودہ حرکت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکیں گے ۔ان ہی دنوں ناظم سیاحت نے سیاحت کے حوالے سے انتہائی خوش آیند انکشافات کئے ہیں اور کہا کہ اس سال کے ابتدائی تین مہینوں میں دس لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے وادی کی سیر کی ۔ظاہر ہے کہ اس سے ہوٹل والے ،شکار ا اونرس ،ٹرانسپورٹرس اور دوسرے دکانداروں نے اچھی خاصی کمائی کی ہوگی ۔اب اگر ان ہی سیاحوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاے گا تو اس سے ان کے من میں کشمیریون کے خلاف کیسے کیسے خیالات آئینگے وہ کس نظر سے کشمیریوں کو دیکھینگے ۔اسلئے حکومت کو چاہئے کہ چاہے وہ ڈرائیور ہو ،شکارے والاہو ،ہوٹل یا ہاوس بوٹ اونر ہو تاجر ہو یا پھیری والا ان کے خلاف ایسی سنگین کاروائی کی جانی چاہئے تاکہ کوئی اور اس طرح کی گندی حرکت کا تصور تک نہ کرسکے ۔واقعی سیاح ہمارے مہمان ہیں اور ہم ان کے میزبان ہیں ۔ان کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا جانا چاہئے ۔خاص طور پر ان لوگوں کو سیاحوں کے ساتھ بہتر طریقہ کار اپنا نا چاہئے جن کا سیاحوں کے ساتھ براہ راست رابط ہے ۔یہ بھی کشمیریوں کی خوش قسمتی ہے کہ بعض یوروپین ملکوں نے اپنے شہریوں کو کشمیر کی سیر کے حوالے سے جو منفی ایڈوائیزری جاری کی تھی وہ ان یورپی ملکوں نے واپس لی ہے ۔اس سے دیسی سیاحوں کے ساتھ ساتھ مغربی ملکوں کے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔کشمیر کی اکانومی بڑھ جاے گی ۔چاروں اور خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی اسلئے لوگوں اور خاص طور پر سیاحت سے براہ راست تعلق رکھنے والوں کو چاہئے کہ سیاحوں کو مہمان سمجھ کر بہترین میزبانی کا حق ادا کریں۔












