ایک بار پھر سوپور ،زونی مر اور حاجن خبروں میں چھائے رہے ۔قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ کچھ دن قبل سوپور میں ایک ہی کنبے میں زمین و جائیداد کے معاملے پر اس قدر جھگڑ ا ہوگیا کہ ایک بھائی کی موت واقع ہوئی چنانچہ قتل کے الزام میں اس شخص کے بھائی کو گرفتار کرلیا گیا یعنی سگے بھائی کو قتل کرنے کے الزام میں اس کے بھائی کا مبینہ طور پر ہاتھ شامل بتایا گیا ۔اس کے چند دن بعد ماگام میں ایک دوشیزہ کی لاش برآمد ہوئی جس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جانے لگیں اور کل ہی زونی مر میں ایک جواں سال خاتوں کی موت پر کہرام مچ گیا اس کے میکے والوں نے اس کے شوہر اور دیگر سسرال والوں پر اسے تنگ طلب کرنے کا الزام لگایا نتیجے کے طور پر پولیس نے اس کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔اب کل ہی حاجن سے ملی اطلاع کے مطابق وہاں بھی گھریلو لڑائی جھگڑے نے اس وقت بھیانک صورت اختیار کرلی جب چچیرے بھائی نے اپنے رشتے کے بھائی پر کسی تیز دھار والے ہتھیار سے حملہ کیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا اسے فوری طور صورہ سکمز لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا ۔یہ سب کچھ ایک ہی ہفتے میں ہوا اور چار معصوم جانیں ضایع ہوگئیں ۔سوال یہ نہیں ہے کہ کس نے قتل کیا ؟ سوال یہ ہے کہ قتل کی نوبت کیونکر آئی ؟۔زمین و جائیداد کے جھگڑے کیا باہمی رضامندی اور صلح صفائی سے حل نہیں کئے جاسکتے ہیں پھر ایک دوسرے کی جان لینے کی نوبت کیونکر آتی ہے یہ سوچنے والی بات ہے اور خاص طور پر دانشمند طبقے کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوا ہے ۔جب زمین و جائیداد پر لڑائی جھگڑوں کی نوبت آتی ہے تو بستی کی ذی عزت ہستیوں کو صلح و صفائی کے لئے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ نوبت قتل و غارت پر نہ پہنچ سکے لیکن ہمارے سماج کواب اس قدر جہالت اور گمراہی نے گھیر لیا ہے کہ اب رشتوں کا بھی لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ موجودہ دور میں انسانی جانوں کی اب کوئی قدر و قیمت نہیں۔لوگ اب ایک دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے سے بھی نہیں ڈرتے ۔سب لوگ حیران و پریشان ہیں کہ کشمیری سماج کو کیا ہوگیا ہے ۔یہاں تو اگر کسی جانور کو بھی چوٹ لگتی تھی تو دل خون کے آنسو رونے لگتاتھا لیکن اب انسانی خون اتنا بہنے کے باوجود کسی کی آنکھ بھی نم نہیں ہوتی ہے ۔لوگ کتنے سنگدل بن گئے ۔ایک معروف اسلامی سکالر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ دین سے دوری اس ساری خرابی کی جڑ ہے ۔دوسری بات اس نے یہ بتائی کہ بعض نام نہاد علماءایسے مسایل و معامات کو بلاوجہ صرف اپنی مشہوری کے لئے اٹھاتے ہیں کہ جن کا ذکر کسی بھی طور لازمی یا ضروری نہیں ہوتا اور اگر اس کے بجائے وہ اصل دین کو لوگوں تک پہنچاتے تو آج ہماری یہ حالت نہیں ہوتی جیسی اس وقت ہے ۔اس وقت نوجوان نسل چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں بے راہ روی کے شکار ہیں ۔منشیات کی لت میں مبتلا ہیں اسلئے ایمہ مساجد ،خطیبوں اور دوسرے علمائے کرام کو چاہئے کہ معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے بہتر ہے کہ مساجد ،اجتماعات ،مجالس اور فیس بک پر نصیحت آموز باتیں بتائیں تاکہ لوگ اور خاص طور پر نوجوان نسل کو صحیح دین سمجھنے میں مدد مل جاتی لیکن ایسا کچھ نہیں کیا جاتا اور نام نہاد علما اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں لگے ہیں اور نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک ایسے دلدل میں دھنس رہا ہے جہاں سے نکلنا اب ناممکن لگتاہے ۔










