15اکتوبر کی شام کو فرووٹ گروورس کبھی نہیں بھول سکتے جب اچانک اور غیر متوقع طور پر آسمان پر سیاہ بادل چھاگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس قدر ژالہ باری ہوئی کہ زمین و مکان ،درخت و دیواربرگ و شجر غرض ہر شے پر سفید پرت بچھ گئی ۔اس طرح جس طرح برف کی سفید چادر ہر شے کو سفیدی میں لپیٹ لیتی ہے ۔لیکن یہ برف نہیں بلکہ یہ وزنی اولے تھے جنہوں نے برف کی طرح ہر شے کو خود میں لپیٹ لیا ہو۔پہلے پہل تو لوگ سمجھ نہ سکے کہ یہ کیا ہورہا ہے لیکن بعد میں جب لوگوں نے غور سے دیکھا تو ان کے پاﺅں تلے زمین نکل گئی تھی یعنی ان کی سال بھر کی کمائی آن کی آن میں تباہ و برباد ہوگئی تھی۔یعنی میوے دار درختوں سے سارا میوہ گر کر ناقابل استعمال بن گیا تھا ۔وزنی اولے گرنے سے پتوں میں سوراخ پیدا ہوگئے تھے اور بیشتر میوہ دار درختوں کی شاخیں ٹوٹ گئی تھیں۔ طوفانی ژالہ باری شوپیان تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ شوپیان کے علاوہ کولگام ،اننت ناگ اور بانڈی پورہ اضلاع میں بھی ہوئی اور وہاں بھی میوہ دار درختوں کا یہی حال ہوا ۔فرووٹ گروورس زار و قطار رونے لگے اور واویلا کرنے لگے کیونکہ ان کی سال بھر کی کمائی ایک ہی پل میںاس طرح تباہ و برباد ہوجاے گی اس بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔کہا جارہا ہے کہ فرووٹ گروورس کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔ فروٹ گروورس اور ڈیلرز کی تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ ماہ اکتوبر میں اس قدر ژالہ باری غیر متوقع اور حیران کن ہے ۔کیونکہ بقول ان کے اس موسم میں اس طرح ژالہ باری اس سے قبل نہیں ہوئی تھی ۔سربراہ تنظیم کی طرف سے اخبارات کیلئے جاری بیان میں کہا گیاکہ آج کل شوپیان ،کولگام ،اننت ناگ اور بانڈی پورہ میں سیبوں کی فصل تیار تھی اور درختوں سے سیب اتارنے کی دیر تھی لیکن اس سے قبل سیب اتارے جاتے قدرت کا قہر ژالہ باری کے روپ میں نازل ہوا اور آناً فاناًلاکھوں روپے مالیت کا میوہ زمین بوس ہوگیا ۔فرووٹ گروورس ہاتھ ملتے رہ گئے اور ان کے ہاتھ کچھ نہیں لگا ۔فرووٹ گروورس کی تنظیم کے سربراہ نے اپنے بیان میں اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ بے وقت کی ژالہ باری نے سال بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے اور اس سے فروٹ گروورس میں اضطراب بڑھنے لگا کیونکہ اب تک نقصان کا جائیزہ لینے کے لئے کوئی بھی سرکاری افسر کو علاقے میں نہیں دیکھا گیا ۔ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ محکمے کو اس کی کوئی خبر اب تک نہ ملی تھا۔فرووٹ گروورس ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ چونکہ فروٹ انڈسٹری کشمیر کی اقتصادیات کیلئے ریڈھ کی ہڈی کی حیثت رکھتی ہے ۔لہذا اس صنعت کو نقصان سے بچانے کیلئے جنگی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ایسوسی ایشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن کئی برسوں سے حکومت سے اپیل کرتی آئی ہے کہ کشمیر کے ہارٹیکلچر سیکٹر کو کراپ انشورنس سکیم کے دائیرے میں لایا جاے لیکن حکومت نے اس اہم مطالبے کو مسلسل نظر انداز کیا اس طرح آج جبکہ میوے کا زبردست نقصان ہوا ہے اگر حکومت نے کراپ انشورنس سکیم لاگو کی ہوتی تو میوہ گروورس میں تشویش نہیں پھیلتی کیونکہ جتنا میوہ ضایع ہوا ہے اس کا معاوضہ فرووٹ گروورس کو ملتا لیکن اس وقت ایسا نہیںہے ۔اسلئے اس سکیم کو فوری طور لاگو کیا جانا چاہئے ۔









