گذشتہ کئی دنوں سے یہ خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی کہ حکومت ہند نے امریکہ سے درآمد کئے جانے والے سیبوں ،بادام اور اخروٹ وغیرہ پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر یہاں کے فروٹ گروورس میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کا کہنا ہے اس سے یہاں فروٹ انڈسٹری سے وابستہ 9لاکھ سے زیادہ خاندانوں کا ذریعہ معاش خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔مختلف فروٹ گروورس کی انجمنوں نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوے کہا کہ اس طرح کا اقدام اٹھانے سے قبل مرکزی حکومت کو کشمیر میں فروٹ سے وابستہ خاندانوں کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ ان کا کیا ہوگا ۔فروٹ گروورس کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہے کی گنجایش نہیں کہ امریکی سیب ،اخروٹ یا بادام معیاری ہوگا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیر کی سیب صنعت کو امریکہ سیب کے نام پر قربان کیا جاے اور اس ساری صنعت پر کاری ضرب لگائی جاے ۔ایک مقامی روزنامے نے اس حوالے سے ایک خبر شایع کی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ امریکی سیب اوراخروٹ پر بیس فی صد ڈیوٹی کم کرنے کے حکومت ہند کے اقدام نے کشمیر کے پھل کاشتکاروں کو پیداوار میں کمی ،ناقص قیمتوں اور انہیں درپیش دیگر عوامل کی روشنی میں اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان کردیا ہے ۔فرووٹ گروورس کا کہنا ہے کہ اب امریکی پھل بھارت کو کم نرخوں پر درآمد کیا جاے گا جس کے نتیجے میں مقامی پیداوار مارکیٹ میں حصہ کھودے گی ۔فرووٹ گروورس کی ایک انجمن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے امریکی میوے پر جو درآمد ی ٹیکس میں کمی کردی ہے اس سے کشمیر کی سیب انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور ایک وقت آئیگا کہ یہ انڈسٹری پوری طرح زوال پذیر ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری لوگوں کی معیشت کا دارو مدار میوے اور ٹوارزم انڈسٹری پر ہے ان میں سے اگر ایک کو بھی تھوڑا سا نقصان ہوگا یا ان دو میں سے کسی بھی انڈسٹری کو کوئی کمزوری درپیش ہوگی تو کشمیر کی معیشت کا ایک بھاری ستون گرنے کے مترادف ہوگا۔ایک اور فروٹ گروور سے کہا کہ کشمیر کے میوہ بیوپاریوں کو اس بات کا یقین تھا کہ حکومت ہند امریکی میوﺅں پر درآمدی ٹیکس میں سو فی صد اضافہ کرے گی لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔فروٹ گروورس نے کہا کہ ان کو اس بات کی امید تھی کہ غیر ملکوں سے درآمد کئے جانے والے میوہ جات پر سو فیصد ٹیرف بڑھادی جاے گی لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا ۔انہوں نے کہا کہ دیوالی اور دوسرے تہواروں پر کشمیر ی میوہ ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے لیکن اگر باہر کا میوہ یہاں آے گا تو کشمیری میوے کو کوئی پوچھے گا نہیں ۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ نے کہا کہ یہ حیران کن خبر ہے کہ حکومت ہند نے امریکہ سے درآمد کئے جانے والے سیب ،بادام اور اخروٹ پر اضافی درآمدی ڈیوٹی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔کشمیر کے تقریباً9لاکھ سیب کاشتکار اور ان کے کنبے دانے دانے کو محتاج ہوجاینگے ۔اسلئے حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ کشمیری فروٹ انڈسٹری زوال پذیر ہونے سے بچ سکے ۔











