انسانوں اور حیوانوں کے درمیان تصادم کی خبروں کے بیچ محکمہ وایلڈ لایف کی طرف سے میڈیا کے ذریعے ایک ایڈوائیزری جاری کردی گئی جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ جنگلی جانوروں سے بچاﺅ کے لئے کیا کریں اور کیا نا کریں۔ریجنل وایلڈ لایف وارڈن کی طرف سے اخبارات میں ایک بہت بڑا اشتہار شایع کیا گیا جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ جنگلی علاقوں میں کسی بھی صورت میں اکیلے گھومنے پھرنے سے احتراز کیا جاے ۔خاص طور پر خواتین اور بچوں کے بارے میں کہا گیا کہ تیندوے اور بھالو بچوں اور خواتین پر زیادہ حملے کرتے ہیں اسلئے اگر جنگلی علاقوں سے بچوں اور خواتین کا گذرنا مجبوری ہے تو گروپوں کی صورت میں چلنا چاہئے اور مرد حضرات کو اس گروپ میں شامل رکھا جانا چاہئے ۔جنگلوں یا ویران علاقوں میں جو پگڈنڈیاں ہیں ان پر ہی چلنے کی صلاح دی گئی اور شارٹ کٹس سے اجتناب ضروری ہے ۔ایڈوائیزری میں کہا گیا کہ اگر جنگلی درندہ نظر آے تو اس کا نہ تو پیچھا کیا جاے اور نہ ہی اس کے نزدیک جانے کی کوشش کی جاے ۔محکمے کی ایڈوایزری میں بتایا گیا کہ کسی بھی صورت میں شام کے بعد یا صبح سویرے رفع حاجت کے لئے گھروں سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کی جاے کیونکہ دیر شام سے صبح سویرے تک کے وقت کے دوران جنگلی درندے کافی متحرک رہتے ہیں اسلئے ان سے بچنے کے لئے کسی بھی صورت میں گھروں سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کی جاے ۔محکمے کے ذرایع نے بتایا کہ جنگلی درندے کو کسی بھی صورت میں اپنے مکان کے نزدیک آنے کا موقعہ نہیں دیا جانا چاہئے یعنی اپنے گھر کے ارد گرد پاور لائیٹس کا بھر پور انتظام کیا جانا چاہئے ۔ایڈوائیزری میں بتایا گیا کہ کچن سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کو گھروں کے نزدیک ڈالنے سے احتراز لازمی ہے کیونکہ کتے اس پر ٹو ٹ پڑتے ہیں اور کتے جنگلی جانوروں کی من پسند غذا ہیں اسلئے جتنا ہوسکے کچن سے جو بچا کھچا کھانا وغیرہ ہو وہ دور ڈالنا چاہئے ۔جنگلوں اور دور دراز گاوں میں رہنے والے لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی صورت میں گھروں کے نزدیک خود رو گھاس اور جھاڑیوں کو اسی حالت میں نہ رکھیں کیونکہ اس گھاس اور جھاڑیوں میں جنگلی درندے آسانی سے چھپ سکتے ہیں ۔اور اس سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔گھروں کے باہر جو گاﺅخانے وغیرہ ہوتے ہیں وہ پختہ بنائے جانے چاہئے تاکہ تیندوا آسانی سے اس کے در و دیواروں ،کھڑکیوں یا در وازوں کو توڑ کر اند ر نہ آسکے ۔ایڈوایزری میں خاص بات یہ بتائی گئی کہ تندوا نظر آنے کی صورت میں کسی بھی طور شور مچانے یا چیخنے چلانے سے احتراز کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے تیندوا بھڑک اٹھتا ہے اور خوفزدہ ہوکر انسانوں پر حملہ کردیتا ہے ۔محکمے کی طرف سے جو ایڈوائیزری جاری کردی گئی اگرچہ وہ سو فی صد صحیح ہے لیکن محکمے کو اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ جنگلوں سے درندے انسانی بستیوں کا رخ کرنے ہی نہ پائیں۔جنگلوں کے ارد گرد خار دار تاروں کا جال بچھانے سے جنگلی جانورنہ تو انسانی بستیوں کا رخ کرسکتے ہیں اور اس سے جنگل چوروں کی سرگرمیوں پر بھی روک لگانے میں مدد مل سکتی ہے ۔










