چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتہ نے کل یہاں ایک اعلی سطحی اجلاس میں یہ بات دہرائی کی موجودہ حکومت لوگوں کی صحت کے بارے میں کافی متفکر ہے اور خاص طور پر لوگوں کو جان لیوا بیماریوں سے بچانے کے لئے فوری نوعیت کے اقدامات کرنے کے لئے کئی سکیموں کو بروے کار لارہی ہے ۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوے ڈاکٹر موصوف نے ماہرین صحت سے کہا کہ وہ ہائی بلڈ پریشر جیسے غیر متعدی امراض ذیا بیطس اور کینسر کی عام اقسام کے لئے جموں کشمیر کی پوری آبادی کی سکرینگ کریں ۔انہوں نے کہا کہ غیر متعدی امراض پوری دنیا میں اموات کی ایک بہت بڑی وجہ بنی ہوئی ہے لہذا ان کی جلد تشخیص اس طرح کی بیماریوں کی بہتر روکتھام اور علاج کا باعث بن سکتی ہے ۔انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ پوری وادی اور جموں میں ایسے کیمپوں کا انعقاد کریں جہاں لوگوں کی مفت سکریننگ کی جاسکے ۔عوامی حلقوں میں چیف سیکریٹری کے اس بیان کا اگرچہ بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا جارہا ہے لیکن ابھی تک لوگوں کی مفت سکریننگ کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا ہے اور نہ اب تک کسی جگہ ایسا کوئی اجتماع ممکن ہوسکا ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی آپشن نہ رکھا جاے یعنی جسے مرضی ہوگی وہ سکریننگ کروائے اور جسے مرضی نہیں ہوگی وہ کیمپ پر نہیں آسکتاہے ۔جس طرح حکومت نے کووڈ ویکسین کو لازمی قرار دیا اور ہر ایک کو یہ ویکسین لینے پر مجبور کردیا گیا اسی طرح اگر ہیلتھ کیمپ منعقد ہوجائیں تو لوگوں کو اس پر حاضری اور سکریننگ کے لئے مجبور کیا جانا چاہئے۔کیونکہ وادی میں خاص طور پر بلڈ پریشر ،ذیا بطیس اور کینسر کی بیماری تیزی سے پھیلتی جارہی ہے اور اگر سکریننگ کیمپ منعقد ہونگے تو جن لوگوں کی تشخص ہوگی کہ وہ کسی موذی مرض میں مبتلا ہیں تو ان کا ابتدائی ایام میں ہی مناسب علاج ہوسکتاہے اور اس طرح اسے شفا یاب ہونے میں دیر نہیں لگ جاے گی ورنہ بیمار اس وقت ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے جب اسے متذکرہ بالا بیماریوں نے پوری طرح جکڑ کر رکھا ہوا ہوتا ہے اور بعد میں کوئی بھی علاج کارگر ثابت نہیں ہوسکتاہے ۔ابتدائی جانچ پڑتال کے لئے حکومت کی طرف سے جو طریقہ کار اپنا یا گیا ہے اگرچہ وہ قابل سراہنا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب اس طرح کے کیمپ منعقد ہونگے تب ہی لوگوں کو اس بات کا یقین آے گا کہ حکومت کو واقعی لوگوں کی صحت کی فکر ہے اور وہ لوگوں کو ان بیماریوں سے چھٹکارا دلانے میں سنجیدہ ہے جن میں وہ مبتلا ہونگے ۔اس کے علاوہ چیف سیکریٹری نے یہاں کے ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں ناکارہ میشنری اور ناقص انتظام کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں میٹنگ میں دریافت کیا ۔انہوں نے محکمے کو ایسی تمام مشینوں کی مرمت کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عام لوگوں کے فایدے کے لئے اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جاسکے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سرکاری طور پر ابھی تک دی جانے والی سہولیات میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں جن کو دور کرنے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ مریض پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلنکوں کو چھوڑ کر صحت کے معاملے میں سرکاری سہولیات سے ہی استفادہ کرسکتے ہیں۔










