چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتہ نے گذشتہ دنوں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں افسروں سے کہا کہ جی 20کی کامیابی سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔چیف سیکریٹری کا یہ بیان حقیقت کے قریب ہے کیونکہ واقعی اس بین الاقومی ایونٹ کی کامیابی صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس کو کامیاب بنانے میں عام لوگوں کو بھی اپنا اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں انتظامیہ پر زور دیا کہ اس تقریب کے انتظامی منصوبے عام لوگوں کیلئے قابل عمل ہونے چاہئیں ۔یعنی اس طرح کے انتظامات ہونے چاہئیں جس سے عام لوگوں کو اس سے کوئی تکلیف نہ ہونے پائے ۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی لوگوں کو یاد رکھنی چاہئے کہ اس تقریب میں شامل غیرملکی ڈیلی گیٹس کی بھاری تعداد کی شرکت متوقع ہے اسلئے سیکورٹی کے انتظامات تو لازمی بنتے ہیں اسلئے لوگوں کو تھوڑی سی مشکلات تو ہونگی ہی لیکن گذشتہ دنوں اس بین الاقوامی ایونٹ سے وابستہ ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کو واضع کردیا کہ 22سے 24مئی تک جاری رہنے والی اس تقریب کے دوران نہ تو سکول بند ہونگے نہ بازار اور نہ ٹریفک البتہ گاڑیوں کی آمد و رفت کے حوالے سے مناسب اور موثر ایڈوائیزری جاری کی جاے گی تاکہ روزمرہ کے کام کاج پر کوئی اثر نہ پڑ سکے ۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ چیف سیکریٹری نے میٹنگ میں ڈویثرنل اور ضلع انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ٹریفک ،بورڈنگ ،قیام و طعام اور دیگر لاجسٹک منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے دوران عام لوگوں کے خدشات کو مدنظر رکھیں کیونکہ عام لوگ بھی اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں اور واقعی اس کو کامیاب بنانے کیلئے ہم سب کو اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریوں کا بھر پور احساس اور ادراک کرنا چاہئے ۔جیسا کہ اس سے پہلے ان ہی کالموں میں لکھا جاچکا ہے کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں جموں کشمیر میں سیاحت کو ایک نئی اور مثبت جہت مل سکتی ہے اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کی معاشی حالت مزید مستحکم ہوسکتی ہے ۔جوں جوں دن قریب ہوتے جارہے ہیں وادی اور خاص طور پر شہر میں جوش و خروش بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور ہر ایک کو اس ایونٹ کا بے صبری سے انتظار ہے ۔اس دوران گلمرگ کو بھی دلہن کی طرح سجایا جارہا ہے کیونکہ شہرہ آفاق گلمرگ کی سیر کا پروگرام بھی کانفرنس میں شرکت کرنے والے ڈیلی گیٹس کے پروگرام میں شامل ہے ۔اسلئے وہاں بھی چاہے گھوڑے بان ہوں یا سلیج والے ،گائیڈ ہوں یا کاروباری وغیرہ ہر ایک کو چاہئے کہ وہ غیر ملکی ڈیلی گیٹس کی آمد کے موقعے پر ان کی میز بانی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں بلکہ انہیں اس بات کا بھر پور احساس دلانے کی کوشش کریں کہ کشمیری دل کھول کر سیاحوں اور دوسرے لوگوں کا کس طرح شاندار طریقے پر خیر مقدم کرتے ہیں ۔یہ ڈیلی گیٹ مثبت خیالات و احساسات لے کر واپس جانے چاہئیں تاکہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں جاکر کشمیر کی ایسی تصویر پیش کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاح یہاں آسکیں جس سے واقعی یہاں کی معیشت کو فروغ مل سکے ۔












