سرینگر جموں شاہراہ پر اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ یہ اب زیادہ تر ٹریفک کے لئے بند ہی رہتی ہے کیونکہ ناسازگار موسم کی وجہ سے کئی حساس مقامات پر پسیاں اور چٹانیں گرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے ۔کل تیسرے دن بھی سڑک بند رہی کیونکہ پینتھال ،شیر بی بی ،کیفٹیریا موڈ اور دوسرے کئی مقامات پر گرنے والی چٹانوں اور تودوں کو روکنا ناممکن بنتا جارہا ہے ۔اگرچہ متعلقہ ایجنسی کی طرف سے سڑک کی تعمیر و تجدید کے لئے دن رات کام کیا جارہا ہے لیکن موسم ناساز گار رہنے سے چٹانیں گرنے کا سلسلہ برابر جاری ہے ۔سرکاری طور پر شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھولنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات اگرچہ جاری ہیں لیکن اس کا صرف ایک حل ہے کہ سڑک کا متبادل تلاش کیا جاے ۔حکومت نے اس چیز کو محسوس کرتے ہوے کئی ٹنلیں بنائی ہیں اور کئی ایک پر کام چل رہا ہے جو ایک حوصلہ افزا اقدام قرار دیا جارہا ہے اس بارے میں چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتہ نے بتایا کہ سرینگر اور جموں کے درمیان سفر صرف تین سے سات گھنٹوں کے اندر اندر طے ہونا چاہئے انہوں نے شاہراہ پر سفر کو کم وقت میں پورا کرنے کیلئے سڑک پروجیکٹوں کو وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔چیف سیکریٹری نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ٹریفک حکام پر یہ بات واضح کردی کہ ہلکی موٹر گاڑیوں کے لئے یوٹی کے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان سفر کا وقت سات گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے ۔انہوں نے ٹریفک حکام پر زور دیا کہ ٹریفک کے بہتر نظام کے لئے سڑک کے تباہ شدہ حصوں پر اپنی نفری بڑھادیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی بھی صورت میں ٹریفک کو معطل نہ ہونے دیں۔چیف سیکریٹری نے یہ پتے کی بات بتائی کہ سڑک کے کناروں پر جو ڈرائیور حضرات پارکنگ کرتے ہیں ان کی وجہ سے بھی گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوجاتی ہے اسلئے ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جانی چاہئے ۔انہوں نے میٹنگ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ مصروف مقامات جیسے بازاروں وغیرہ میں اضافی ٹریفک اہلکارون کی تعیناتی عمل میں لائی جاے انہوں نے سڑک پر جاری پروجیکٹوں پر کام کی رفتار کا جائیزہ لیااور ٹریفک حکام پر زور دیا کہ وہ 15مار چ تک ہائی وے کے پنتھال حصے پر ٹی 5ٹنل ،31مارچ تک جیسوال پل اور رام بن فلائی اوور اور بانہال بائی پاس کو اس سال 15اپریل تک ڈبل لین کے ذریعے کھولنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔چیف سیکریٹری نے شاہراہ کے پورے حصے میں تمام راستے کی سہولیات جیسے واش روم وغیرہ کو فعال بنانے پر بھی زور دیا ۔انہوں نے اس سڑک پر متعدد مقامات پر ہولڈنگ ایریاز کی نشاندہی کرنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے رام بن کے قریب بیلی برج کے لئے جلد از جلد ڈی پی آر کے ساتھ آنے کا مشورہ دیا تاکہ اس سال مارچ تک ا س پر کام ہاتھ میں لیاجاے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چیف سیکرٹری کی ہدایات پر عمل کیاجاے تو شاہراہ پر بلاخلل ٹریفک کی روانی ممکن ہوسکے گی۔











